police mukabla 18

میرے بچے کو گاڑی سے باہر نکال کر گولیاں ماری گئیں‘ اسامہ ستی کے والد کا الزام

اسلام آباد: اسلام آباد میں پولیس کے ہاتھوں قتل کیے گئے نوجوان اسامہ ستی کے والد نے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسامہ ستی کے والد ندیم یونس ستی نے کہا کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر خون کا کوئی نشان نہیں ہے ، میرے بچے کو گاڑی سے باہر نکال کر گولیاں ماری گئیں ، اس لیے پولیس کی طرف سے کی جانے والی واقعے کی تفتیش قابل قبول نہیں ہے ، کیوں کہ تفتیش کرنے والے اہلکار بھی اپنی پولیس کے ہی مددگار ہوں گے ، یہ تو وہی قاتل ، وہی محافظ اور وہی گواہ والا معاملہ ہے ، اس لیے اس میں انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے دی گئی 4 دن کی مہلت بھی گزر گئی ، میں نے یہ تین راتیں جاگ کر گزاری ہیں ، مجھے چیف جسٹس سپریم کورٹ سے شکوہ ہے کہ وہ کراچی میں نالوں کے معاملے پر تو سوموٹو لے سکتے ہیں لیکن یہاں پر میرے بچے کی جان ضائع ہوئی ہے لیکن ان کی طرف سے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔

اسامہ ستی کے والد نے کہا کہ اس واقعے میں تو بغیر کسی انکوائری کے ہی ملزمان کو لٹکایا جائے ، کیوں کہ گاڑی کے اندر بیٹھ کر کوئی پاوں پر گولی نہیں مارسکتا جب کہ پولیس سربراہ نے بھی کہا کہ آپ کے بیٹے کی جان پولیس کی غفلت کے باعث گئی۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پولیس فائرنگ سے ہلاک نوجوان اسامہ ستی کو قتل کرنے والے پولیس اہلکاروں کے بارے میں کہا ہے کہ ایسے بے رحم لوگ پولیس میں نہیں ہونے چاہئیں ، وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں شیخ رشید احمد نے مچھ مقتولین کے لواحقین سے ہونے والے مذاکرات سے آگاہ کیا۔ بتایا گیا ہے کہ مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے اسامہ ستی کے والدین کا مقف کابینہ میں پیش کیا ، کابینہ نے مچھ حملے اور اسامہ ستی قتل پر افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے بے رحم لوگ پولیس میں نہیں ہونے چاہئیں، حکومت مچھ حملے کے متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں