38

میرے نزدیک اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی مناسب نہیں،چیف جسٹس

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ان کے نزدیک اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی مناسب نہیں ہے۔ چیف جسٹس بنتے ہی اولین ترجیح عدالت میں پیش ہونے والوں کا وقار بحال کرناتھا۔ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں عدالت کی طرح کام کریں۔لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکیس کی نوعیت کچھ بھی ہوڈسپلن فورس کے پیش ہونیوالے کااحترام ضروری ہے۔چیف جسٹس نے عدالتوں میں اندراج مقدمہ کی درخواستوں کی تعداد بڑھنے پراظہارتشویش کرتے ہوئے کہا اندراج مقدمہ کیلئے درخواستیں بڑھنے سے عدالتوں پرمقدمات کا بوجھ بڑھ چکا ہے۔انہوں نے کہا انصاف کی فوری فراہمی کیلئے ماڈل کورٹس بنائیں جس سے حیرت انگیز نتائج نکلے۔کوشش کی کہ پولیس یاکسی بھی شخصیت کی عدالت میں پیشی پراس کا احترام ملحوظ خاطررکھا جائے۔انہوں نے کہا جب کوئی عوامی مسئلہ ہو تو سوموٹو کی توقع کی جاتی ہے تاہم حکام اپنا کام کررہے ہوں تو عدالتوں کو مداخلت کی ضرورت نہیں۔اعلیٰ حکام کی بار بار پیشی میرے نزدیک مناسب نہیں ۔اب کوئی واقعہ ہو تو حکام اور ادارے خود ہی متحرک ہوجاتے ہیں۔ادارہ پہلے ہی متحرک ہو تو عدالت کے نوٹس لینے کی ضرورت نہیں رہتی۔ انہوں نے کہا پولیس اصلاحات کمیٹی سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے قائم کی جبکہ ریٹائرڈ پولیس افسران نے بھی پولیس اصلاحات کیلئے بہت کام کیا۔انہوں نے کہا ہمیں یقینی بنانا ہے کہ عدالتیں عدالتوں کی طرح کام کریں۔ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائی جائیں گی۔انہوں نے کہا اصلاحات اور عدلیہ اور پولیس کے تعان کے باعث ہائیکورٹس میں اپیلیں دائر ہونے میں کمی آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں