266

اسلام آباد میں نیا تجربہ (محمد حنیف قمر )

اسلام آباد میں حسب معمول نئے تجربے کی تیاری ہو رہی ہے ۔۔جب سے ملک بنا ہے تجربات پر تجربات ہو رہے ہیں ۔کبھی آمریت کا تجربہ ،کبھی ،صدارتی نظام ،کبھی پارلیمانی ،کبھی شورائیت ،کبھی اسلام ،کبھی کچھ، کبھی کچھ ۔ان تجربات کے نتیجے میں حاصل کیا ہوا؟سیاسی ،سماجی ، فکری عدم استحکام اور دائرے کا سفر ۔ دنیا کی سیاست میں بھی تجربے ہوتے ہیں دنیا ایک تجربے کے بعد نتائج اخذ کرتی ہے اور پھر ان نتائج کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جاتا ہے اسی کا نام سیاسی ارتقا ہے ۔دنیا نے بادشاہت ،پاپائیت ،شخصی اور مذہبی حکمرانی کے تجربات ہم سے برسوں پہلے کیے اور نتاٗئج فکر مرتب کرنے کے بعد آگے بڑھ گئے ۔سیاسی ارتقا کے اس سفر میں دنیا کا پڑاو جمہوریت نام کے طرز حکومت پر ہے ۔ہم سے صدیوں پہلے تجربات کی بھٹی سے گذرنے والوں نے یہ اعتراف کر لیا کہ اب تک کا سب سے بہتر اور قابل قبول طرز حکمرانی جمہوریت ہے ۔الا کہ کل کلاں کوئی اس سے بہتر سسٹم وجود میں آجائے اور دنیا جمہوریت کو فرسودہ قرار دے کر آگے بڑھ جائے ۔ہمارے سیاسی سائنسدانوں کا کمال ملاحظہ فرمائیں ہم نے دینا کے تجربات اور نتائج کو درخور اعتنا نہیں سمجھا ۔ہمارے خیال میں دنیا ،اس کے سیاستدان ،مفکر اور دانشور ہم جیسے سیانے نہیں، جبھی تو وہ جمہوریت جیسے فضول نظام پر اصرار کر رہے ہیں اور ان کی ناکامی (ہمارے نزدیک)کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ ہماری طرح کسی مسیحا کونہیں مانتے۔ایسا مسیحا جو عالم غیب سے آئے اور قوم کا دکھ درد از خود محسوس کرتے ہوئے اسے راہ راست پر لانے کا بیڑہ اٹھا لے اور غیر معینہ مدت تک عوام کی عاقبت سنوارنے کی جدوجہد کرتا رہے ۔دنیا واقعی بے وقوف ہے یا کم ازکم ہم جتنی سیانی نہیں ۔ہمیں دیکھیں ہم سے سبق سیکھیں بلکہ ہو سکے توعبرت پکڑیں،ہم مسلسل رصد گاہ میں ہیں تجربہ در تجربہ ،صدارتی مسیحا ،مارشل لائی ،فیلڈ مارشل لائی ،سلیکٹڈ ،امپورٹڈ ،لوکل ،ٹیکنو کریٹ ،بیوروکریٹ ،ایماندار ،ہینڈ سم ،درویش ،بیرونی تبدیلی ،اندرونی تبدیلی ،راتوں رات تبدیلی ،غرض کہ کون سا نسخہ ہے جو ہم نے نہیں آزمایا ۔ کون سی گیدڑ سنگھی ہے جو ہم نے ٹرائی نہیں کی ۔اس میدان میں دنیا ہماری گرد راہ کو بھی نہیں چھو سکی ،ان تمام تجربات سے ہم ایک ہی نتیجے پر پہنچے ہیں اور ایک ہی بات سیکھی ہے وہ یہ کہ ہم نے دنیا سے کچھ نہیں سیکھنا ،دنیا جو مرضی کہتی پھرے ہمارا تجربہ اور علم یہ کہتا ہے کہ دنیا پاگل ہے ،کم عقل ہے ، دنیا صرف دنیا کو دیکھتی ہے ،ہماری نظر عاقبت پر بھی ہے ۔وہ عاقبت نا اندیش ہیں ہم اپنی سے زیادہ دنیا کی آخرت کے لیے فکرمند اور اسے ٹھیک کرنے کے علمبردار ہیں ۔سو دنیا کی کیوں مانیں ۔۔اسی لیے تو جمہوریت نامی جس نظام پر دنیا ایمان لے آئی ہے ہم اس کی راہ میں روڑے اٹکانے کا کوئی موقع ضائع کیوں جانے دیں ۔۔ہم ہر سسٹم ،ہر فرد ،ہر ہتھکنڈہ ہر حربہ آزمائیں گے لیکن جمہوریت نہیں ،ہمارا ہینڈ سم بھی ناکام ہو گا تو ہم کوئی اور سلیکٹ کر لیں گے ،وہ نہ چلا تو کوئی اور ،لیکن عوام سے نہیں پوچھیں گے کہ انہیں کیا چاہیے ،ہرچیز قبول لیکن جمہوریت نہیں کیونکہ جمہوریت صرف دنیا کی بات کرتی ہے ہمیں تو آپ کی آخرت کی فکر ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں