79

نیب ملزمان کے برطانیہ میں اثاثوں کا ڈیٹا جلد پاکستان کو فراہم کریں گے

برطانیہ بد عنوانی کے خاتمے کے لئے پاکستان سے مل کر کام کررہا ہے، برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے سربراہ محمد عثمان کا نیب کے زیراہتمام انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب.برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے سربراہ محمد عثمان نے کہا ہے کہ نیب ملزمان کے برطانیہ میں اثاثوں کا ڈیٹا جلد پاکستان کو فراہم کریں گے، برطانیہ بد عنوانی کے خاتمے کے لئے پاکستان سے مل کر کام کررہا ہے، بد عنوان عناصر کو سخت سزائیں دے کر اس کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو نیب راولپنڈی کے زیراہتمام انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن سے ہر شخص متاثر ہوتا ہے، اس لعنت کا مشترکہ کوششوں سے خاتمہ کیا جاسکتا ہے، بد عنوانی سے معیشت کمزور ہوتی ہے، انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں، غربت میں اضافہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بد عنوان عناصر سے لوٹے ہوئے پیسے وصول کرکے ملکی معیشت مستحکم کی جا سکتی ہے، عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کے کنونشن کے تحت مشترکہ کوششوں سے اس لعنت کا قلع قمع کی جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی بد عنوانی کے خاتمے کے لئے نیب سمیت دیگر تمام اداروں کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے، پاکستان اور برطانیہ کے انسداد بد عنوانی کے اداروں کے درمیان روزانہ کی بنیاد پر معلومات کا تبادلہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو برطانیہ میں بد عنوانی کے متعدد مقدمات میں کامیابی ملی ہے، بد عنوانی کی روک تھام کے لئے مؤثر مانیٹرنگ کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بد عنوان کی روک تھام کے لئے لندن میں انٹرنیشنل کوارڈینیشن مرکز قائم کیا گیا ہے، اس فورم سے بھی پاکستان کو بد عنوانی سے متعلق مقدمات میں تعاون فراہم کررہے ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان بد عنوانی میں ملوث عناصر کے ڈیٹا شیئرنگ پر بھی کام جاری ہے۔ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان نعیم منگی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیب بد عنوانی کی روک تھام کے لئے آگاہی، تدارک اور انفورسمنٹ کی سہ جہتی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدعنوانی کی روک تھام کے لئے ملکی اور غیر ملکی ادارو ںسے مل کر کام کر رہے ہیں، کرپٹ مافیا کے خلاف ہر سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے بد عنوانی کے مبینہ الزامات پر سابق صدر اور سابق وزیر اعظم کے خلاف بھی کاروائی کی ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار بااثر شخصیات کے خلاف بھی کاروائی کی جارہی ہے، بعض افراد بلاوجہ نیب کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں حالانکہ یہ مقدمات سپریم کورٹ نے نیب کو بھجوائے ہیں۔

عرفان نعیم منگی نے کہا کہ نیب افسران اپنے فرائض قومی فرض سمجھ کر ادا کر رہے ہیں، بد عنوان عناصر کے خلاف ان کے سماجی رتبے کو بالائے طاق رکھ کر کارروائی کررہے ہیں، ہمارا کسی گروپ یا فردسے کوئی تعلق نہیں ہے، قانون کے مطابق اقدامات کررہے ہیں، ملک کو بد عنوانی سے پاک کرنے کے لئے پر عزم ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بد عنوان عناصر کا سماجی بائیکاٹ کیا جاتا تھا لیکن اب کرپٹ عناصر کو ان کے مال و دولت دیکھ کر سرآنکھوںپر بٹھایا جاتا ہے، ہمیں اس حوالے اجتماعی رویہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیب نوجوانوں کو بد عنوانی کے خاتمے میں اہم کردار کے طور پر اولیت دیتا ہے ۔ نوجوان بدعنوانی سے متعلق آگاہی پید اکرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیب راولپنڈی کے افسران کو ہدایت کی کہ وہ اسی عزم و جذبے سے اپنا کام جاری رکھیں۔ سیمینار کے دوران ممتاز شاعر انور مسعود نے بد عنوانی کی روک تھام سے متعلق اپنا کلام پیش کا۔ اس موقع پر تقریری مقابلوں میں پوزیشنیں حاصل کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں