کرائسٹ چرچ حملوں 52

نیوزی لینڈ ، کرائسٹ چرچ حملوں کا مجرم باقاعدہ دہشت گرد قرار

کرائسٹ چرچ نیوزی لینڈ نے کرائسٹ چرچ دہشت گرد حملوں کے مجرم کو دہشت گرد قراردے دیا ۔ اس حوالے سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جاسنڈا آرڈرن نے اپنے ایک اعلان میں کہا ہے کہ مجرم کو مخصوص حیثیت دینا نیوزی لینڈ کی جانب سے دہشت گردی اورہرقسم کی پرتشدد انتہا پسندی کی مذمت کے حوالے سے ایک اہم بات ہے ، نیوزی لینڈ کے قانون کے تحت ایسی حیثیت دینے سے دہشت گرد افراد کے اثاثے منجمد کر دیئے جاتے ہیں اوردہشت گرد قراردیئے جانے والے شخص کی سرگرمیوں کا حصہ بننا اور اس کے بعد مجرم کو اس میں مدد فراہم کرنا ایک مجرمانہ فعل تصور کیا جاتا ہے ۔
نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے کہا ہے کہ مخصوص شناخت دینے سے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ مجرم مستقبل میں کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی معاونت میں ملوث نہ ہو، ہم نیوزی لینڈ اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے سامنے جوابدہ ہیں جس کی بنا پر ہمارے لیے ضروری ہے کہ دہشت گرد اقدامات کی مالی معاونت کا راستہ روکنا ہوگا ۔

بتایا گیا ہے کہ اس وقت نیوزی لینڈ کے قانون کے تحت 20 افراد کو دہشت قراردیا گیا ہے جن میں یہ مجرم بھی شامل ہے جبکہ دہشت گردی پر قابو پانے کے حوالے سے ایکٹ 2002 کی دفعہ 22کے تحت وزیراعظم کی طرف سے حکام کے ساتھ مشورے کے بعد کسی بھی گروپ یا فرد کو دہشت گرد قراردیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی عدالت نے 15 مارچ 2019 میں دو مساجد میں فائرنگ کر کے 51 مسلمانوں کو شہید کرنے والے آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو عمر قید کی سزا سنائی تھی ، مجرم نے پہلے صحت جرم سے انکار کیا تاہم بعد میں جرم قبول کرلیا جب کہ نیوزی لینڈ کی تاریخ میں پہلی بار کسی ملزم کو بغیر پیرول کے عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔ جج کی طرف سے انتیس سالہ دائیں بازو کے اس انتہا پسند کو سزا سناتے ہوئے کہا گیا کہ عمر قید کے دوران اسے رہائی نہیں مل سکتی۔ نیوزی لینڈ میں اس نوعیت کی کڑی سزا پہلے کبھی نہیں سنائی گئی۔ دوسری جانب وزیراعظم نیوزی لینڈ جیسنڈا ایڈرن نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد برینڈن ٹیرنٹ عمر قید کی سزا کا ہی مستحق تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں