MARYAM NAWAZ 164

وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر، مریم نواز نے اپنے بیانیہ کی نفی کردی اب تک مسلم لیگ ن نے میڈیا میں یہ بیانیہ چلایا کہ فوج اور حکومت کے باہمی اختلافات ہیں، بعض کورکمانڈرز وزیراعظم عمران خان سے ناراض ہیں اور وہ اپوزیشن کی تحریک کو سپورٹ کر رہے ہیں، صحافی صدیق جان کا تبصرہ

وزیراعظم اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر، مریم نواز نے اپنے بیانیہ کی نفی کردی
اب تک مسلم لیگ ن نے میڈیا میں یہ بیانیہ چلایا کہ فوج اور حکومت کے باہمی اختلافات ہیں، بعض کورکمانڈرز وزیراعظم عمران خان سے ناراض ہیں اور وہ اپوزیشن کی تحریک کو سپورٹ کر رہے ہیں، صحافی صدیق جان کا تبصرہ

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کہتی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں، مریم نواز کیا یہ چاہتی ہیں کہ اگر وزیراعظم کچھ غلط کریں توفوج اس میں مداخلت کرکے ان کی حکومت کو گرادے،یہ تو ان کے اپنے بیانیہ کی نفی ہوگی جو کہ قائم ہی اس پر ہے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت نہیں ہونی چاہیئے، ان خیالات کا اظہار صحافی صدیق جان نے کیا۔
اپنے یوٹیوب چینل پر انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے اعتراف کیا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اورحکومت ایک پیج پر ہیں، جب کہ اس سے پہلے اب تک مسلم لیگ ن کی طرف سے میڈیا میں یہ بیانیہ چلایا گیا کہ فوج اور حکومت کے باہمی اختلافات ہیں، مولانا فضل الرحمان جب اسلام آباد میں آئے تب بھی یہی کہا گیا کہ بعض کورکمانڈرز وزیراعظم عمران خان سے ناراض ہیں اور وہ اپوزیشن کی تحریک کو سپورٹ کر رہے ہیں، اور یہی کورکمانڈر اپنی ریٹائرمنٹ سے پہلے اس حکومت کے خلاف بہت سے اقدامات کردیں گے لیکن اب تو فوج میں نئی تقرریاں ہوچکی ہیں جو بھی مہم پہلے چلائی گئی اس میں جان بوجھ کر جھوٹ پھیلایا گیا تاکہ کنفیوژن اور مایوسی پھیلے۔

صحافی صدیق جان کے مطابق جب آرمی چیف کی ایکسٹینشن کی باتیں چل رہی تھیں اس وقت بھی ایک خبر چلوائی گئی کہ جنرل قمر جاوید باجوہ شدید غصے کی حالت میں وزیراعظم آفس میں بیٹھے ہیں اور خود اپنے نوٹی فکیشن کی غلطیاں ٹھیک کروارہے ہیں، وہ سب کی سب جھوٹی خبر تھی بعد ازاں کچھ کالم لکھوائے گئے جن میں یہ تاثر دیا گیا کہ فوج کے اندر یہ باتیں چل رہی ہیں کہ جو حکومت ہماری قیادت کا نوٹی فکیشن تک ٹھیک نہیں کرسکی وہ ملک کیا چلائے گی لیکن اب جب مریم نواز نے برملا اعتراف کیا کہ سول اور فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں تو اس سے ان کے حامی اینکرز اور صحافی جن کی طرف سے شہر اقتدار کی خبریں لیک کی جاتی تھیں سب کی نفی ہوگئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں