172

وزیراعظم عمران خان آج پشاور میں بی آر ٹی منصوبے کا افتتاح کریں گے

عمران خان آج پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے افتتاح کریں گے جس کی تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں. افتتاحی تقریب میں منصوبے کے خالق سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور گورنر سندھ بھی شرکت کریں گے پاکستان تحریک انصاف نے یہ منصوبہ اڑھائی سال بعد مکمل کیا ہے ایک ماہ سے جاری بی آرٹی ٹسٹ سروس کو کامیاب قرار دیا گیا ہے انتظامیہ کے مطابق بی آر ٹی سروس سے جڑے چند ضمنی منصوبے افتتاح کے بعد آگے بڑھائے جائیں گے.
دو سال دس ماہ کے دوران منصوبہ متعدد تنازعات اور مسائل کا بھی شکار رہا اکتوبر 2017 میں اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے اپنے دور کے میگا پراجیکٹ پشاور بی آرٹی کا سنگ بنیاد رکھا اور چھ ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا‘چھ ماہ ابھی گزرے بھی نہیں تھے کہ منصوبہ میں تنازعات اور نقائص سر اٹھانے لگے بی آرٹی کی ابتدائی لاگت کا تخمینہ 49 ارب 34 کروڑ روپے لگایا گیا تھا جو بڑھتے بڑھتے 70 ارب 72 کروڑ تک پہنچ گیا.
ناقص منصوبہ بندی کے باعث اڑھائی سال تک منصوبے میں توڑ پھوڑ کا سلسلہ جاری رہا منصوبے کی تکمیل کے لیئے پرویز خٹک سے لیکر اب تک 7 دفعہ سر کاری ڈیڈ لائن دی گئی تھیں‘اس عرصے کے دوران بی آرٹی منصوبہ مختلف مالی اور انتظامی تنازعات کا بھی شکار رہا اڑھائی سال تک منصوبے سے متعلق اربوں روپے کرپشن کی خبریں زیر گردش رہیں. دسمبر 2019 میں پشاور ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تاہم صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے اسٹے ارڈر لے لیا بعض حلقے اب بھی منصوبہ ناقص ہونے اور تکنیکی مسائل کی نشاندہی کر رہے ہیں بی آر ٹی پشاور کا ٹریک 27کلو میٹر طویل ہے جس پر 220 ائیر کنڈیشنڈ بسیں چلائی جائیں گی عوام کی سہولت کے لیے 31 اسٹاپ کے دو روٹ رکھے گئے ہیں اور بس کا ابتدائی کرایہ صرف دس روپے ہے بی آر ٹی روٹ چمکنی سے کارخانو مارکیٹ تک جاتا ہے ٹریک پر بسیں ہفتے کے ساتوں دن صبح چھے سے رات دس بجے تک چلیں گی.
عوام کی سہولت کے لیے ایک ہی ٹریک پر دو روٹ متعارف کرائے گئے ہیں چمکنی سے کارخانو مارکیٹ کا ایک روٹ7 اسٹاپ پر مشتمل ہے اور 45 منٹ میں سفر طے ہو گا‘دوسرے روٹ پر 31 اسٹاپ رکھے گئے ہیں اور یہ سفر ایک گھنٹے میں طے ہو گا پہلے پانچ کلومیٹر سفر کا کرایہ دس روپے رکھا گیا ہے ہر پانچ کلومیٹر کے بعد کرائے میں پانچ روپے اضافہ ہو گا. بی آر ٹی روٹ کے ساتھ سائیکلنگ ٹریک بھی بنایا گیا ہے پانچ مقامات سے فیڈر روٹس کے ذریعے رسائی دی گئی ہے بسوں اور پلیٹ فارمز پر وائی فائی سمیت جدید سہولتیں فراہم کی گئی ہیں.
بی آر ٹی پشاور میں سائیکلنگ ٹریک اسے دوسری میٹرو سروسز سے ممتاز بناتا ہے پہلے مرحلے میں پشاور یونیورسٹی سے حیات آباد تک سائیکلنگ کی سہولت دی گئی ہے‘پلیٹ فارمز پر خود کار دروازے، برقی زینے، لفٹ، سیکیورٹی کیمرے اور وائی فائی کی سہولتیں ہیں بس کا اگلا حصہ خواتین کے لیے مختص ہے، خصوصی افراد کیلئے بھی نشستیں مخصوص رکھی گئی ہیں. بی آر ٹی کی بسوں میں سفر کرنے کے لیے شہریوں کو “زو کارڈ” حاصل کرنا ہو گا زو کارڈ بی آرٹی کے ہر اسٹیشن کے ٹکٹ آفس یا ٹکٹ وینڈنگ مشین کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے.
ایک سو پچاس روپے کی ادائیگی پر شہری کارڈ لے سکتے ہیں تاہم خیبر پختونخوا حکومت پہلے ایک لاکھ کارڈ مفت تقسیم کر رہی ہے ایک فرد ایک ہی کارڈ حاصل کر سکتا ہے بس میں سفر کرنے کے لیے کارڈ میں کم از کم پچاس روپے کا بیلنس ہونا ضروری ہے نقد رقم، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ اور آن لائن موبائل بینکنگ کے ذریعے کارڈ ری چارج کیا جا سکتا ہے گوگل پلے اسٹور یا ایپل اسٹور سے بھی مفت زو موبائل ایپ ڈاﺅن لوڈ کی جا سکتی ہے جس میں بس سروس کی تمام تفصیل فراہم کی گئی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں