maryyam nawaz 21

وزیراعظم کیوں نہیں جاسکتا، کیاان کی سکیورٹی آرمی چیف سے زیادہ ہے؟

کراچی : مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کیوں نہیں جاسکتا، کیاان کی سکیورٹی آرمی چیف سے زیادہ ہے؟ ہمارے دورحکومت میں400نہیں 10یا 11 مزدروں کا قتل ہوا تھا، تب ہزارہ والوں کے مطالبے پر میں بطور وزیرداخلہ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ گئے، آج وزیراعظم کو کیا مسئلہ ہے؟ نائب صدر ن لیگ مریم نواز کے ہمراہ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی ہم سیدھا کوئٹہ سے کراچی آرہے ہیں، ہزارہ برادری جن پر قیامت گزری وہ رنجیدہ مناظر دیکھ کر رآرہے ہیں، میں جب ان کے خاندانوں اور خواتین سے ملی، ہر خاندان غم کی ایک بڑی کہانی ہے، میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں بتا سکوں میرے جذبات کیا تھے؟ کچھ ایسے خاندان بھی تھے کہ ہمارا کوئی مرد نہیں رہا، جو جنازے کو کندھا دے سکے، ہم تسلی اور دلاسا دینے کے سوا کیا کرسکتے تھے؟ میں نے پریس کانفرنس نہیں کرنی تھی، میں کراچی ٹرانزٹ کیلئے آئی تھی، میں نے جب سنا کہ میں بلیک میلنگ میں نہیں آؤ ں گا، اپنی میتوں کی تدفین کریں پھر آؤں گا، میں کہاں سے شروع کروں؟ انسانیت سے عاری باتیں ہیں، یہ بہت بڑی ناکامی ہے کہ ہزارہ برادری کے ساتھ یہ ظلم ہوتا آرہا ہے، انہوں نے بتایا قبرستان میں دفنانے کی جگہ بھی نہیں، وہ کمزور طبقہ ہے، ان کوتحفظ نہیں دیا جاسکا، میں ایک تصویر دکھائی جس کا گلا کٹا ہوا تھا، گلا بالکل کھلا ہوا تھا، آج چھٹا دن ہے، وہ منفی ڈگری میں میتیں رکھ کر بیٹھے ہیں،ان کا کیا مطالبہ ہے؟ وہ جائیداد تو نہیں مانگ رہے، وہ مردوں کو زندہ کرنے کا بھی مطالبہ نہیں کررہے، بی بی سی نے ایک ویڈیو دکھائی کہ ایک بچی رحم کی اپیل کررہی تھی کہ آپ آئیں تاکہ ہم اپنے مردوں کو دفنائیں۔

میں نے کہا کہ آپ کا کیا مطالبہ ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ حکمران یہاں کر زخموں پر مرہم رکھے اور دلاسا دے، یقین دہانی کروائے ایسا نہیں ہوگا۔اتنی بے رحمی، اتنا تکبر ، یہ فرعونیت ہے، آپ خود کہتے ہیں ملک کا سربراہ والد کی طرح ہوتا ہے، خدانخواستہ آپ کے گھر یہ آفت آتی تو آپ ان کو بھی ایسے کہتے؟آپ ان سے شرطیں لگا رہے ہو؟کہ پہلے مردے دفنائیں، پھر آؤں گا، اگر میتیں دفنا دیں، پھر آپ کے جانے سے ان کو کچھ نہیں لے گا؟ آپ لاشوں اور مظلوموں کے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں، آپ کا تکبر اور انا آپ کو وہاں نہیں جانے دے رہا، اگر تکبر اور ہٹ دھرمی کا کوئی چہرہ ہوتا تو عمران خان جیسا ہوتا۔

میڈیا کو نہیں بتایا جاسکتا کہ عمران خان وہاں کیوں نہیں جاسکتے، اگر سکیورٹی کلیئرنس ہے تو ہم بھی وہاں گئے، ہمیں بھی خطرات تھے، کیا وہاں پڑے تابوتوں اور 22کروڑ عوام کی زندگیوں سے آپ کی زندگی زیادہ قیمتی ہے؟ اگر سکیورٹی تھریٹ کی وجہ سے نہیں گئے تو سلیکشن کے وقت آپ سوچنا چاہیے تھا کہ حکومت میں آکر عوام کوجوابدہ ہونا پڑے گا۔بتایا جائے کون سی ایسی وجہ تھی کہ آپ وہاں نہیں جاسکے، کیا عوام کی زندگیوں سے زیادہ قیمتی آپ کی تابعداری ہے؟ اگر توہم پرستی ہے تو بھی قوم کو بتائیں کہ 22کروڑ عوام کی زندگی کسی حکومت کے ہاتھ میں نہیں اس کا فیصلہ توہم پرستی کرے گی۔

لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، تو آپ کہتے میرے پاس جادو کا بٹن نہیں، موٹروے پر زیادتی کا واقعہ ہوا تو کہا گیا خاتون اکیلے کیوں نکلی؟ یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جب لیڈی ہیلتھ ورکرز احتجاج کریں تو ان پر لاٹھیاں چلائیں۔مان لیا کہ آپ کا کوئٹہ جانا مسئلہ تھا لیکن آپ تواسلام آباد میں اپنے سپورٹر کے گھر بھی نہیں گئے جس کو 22گولیاں لگیں۔پھر کہتے ہیں فوج سب جانتی ہے، فوج جانتی ہے کہ آپ کتنے بڑے بزدل ہیں، کیاسلیکٹرز جانتے ہیں کہ 22کروڑ عوام کی تقدیر ایسے انسان کے حوالے کردی جس نے پہلے معیشت کو برباد کیا، پاکستان کے دوستوں کو ناراض کیا، نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے پہلے گورننس کا بیڑہ غرق کیا، اب مظلوموں کو بلیک ،میلرز کہہ کر توہین کررہا ہے؟ سلیکٹرز سے سوال کرتی ہوں کیوں نالائق نااہل شخص کو 22کروڑ عوام پر مسلط کیا گیا؟ایک سوال پر کہ آپ کے دور حکومت میں400ہزارہ برادری کے لوگ مارے گئے، آپ اور میاں نوا ز شریف کتنی بار وہاں گئے؟جس پر احسن اقبال نے کہا کہ ہمارے دورحکومت میں 2018ء میں 10یا 11مزدروں کا قتل ہوا تھا، تب ہزارہ والوں نے بھوک ہڑتال کی، ان کا مطالبہ تھا کہ ہم تب بھوک ہڑتال ختم کریں گے جب تک آرمی چیف نہیں آئیں گے، کیونکہ اس کا پس منظر ہے کہ 14سالوں میں2ہزار لوگ دہشتگردی کا نشانہ بنے۔
پھر میں بطور وزیرداخلہ اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کوئٹہ گئے، اس سے ان کی تسلی ہوئی،کیا وزیراعظم کی عزت اور سکیورٹی آرمی چیف سے زیادہ بڑی ہے،تابعدار خان کا کیا چلے جاتا اگرمظلومین کی تسلی ہوجاتی۔مریم نواز نے ایک سوال پر کہا کہ73سالوں میں دہشتگردی کے تحفے آمروں نے دیے ، پاکستان کودہشتگردی کا تحفہ مشرف سے ملا تھا، نوازشریف نے فوج کے ساتھ ملکر ضرب عضب اور ردالفساد سے دہشتگردی کو ختم کیا،مجھے اس معاملے میں مت الجھائیں، میں سیاست کرنا چاہتی تو ان کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملتی، آپ کی نالائقی اور نااہلی کو سیاست کہہ کرفراموش نہیں کیا جاسکتا، اگر ہم نہیں بولیں گے تو کون بولے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں