IMRAN KHAN 126

وزیر اعظم نے 12وزارتوں سے بریفنگ طلب کرلی

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے اگلے ہفتے 12 مختلف وزارتوں سے بریفنگ طلب کرلی ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعظم وزارتوں اور ڈویژن سے بریفنگ لیں گے جبکہ وزیر اعظم متعلقہ وزیر ، مشیر، معاون خصوصی اور سیکرٹری کے ساتھ معاہدہ کریں گے جبکہ پرفارمنس معاہدوں پر دستخط 21-2020 کے لیے کیے جائیں گے.

وزیر اعظم نے وزارت داخلہ اور خزانہ سے بھی بریفنگ طلب کر لی، اس کے علاوہ وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت آئی ٹی بھی وزیر اعظم کو رپورٹ دے گی وزارت تجارت اور وزارت منصوبہ بندی سے بھی بریفنگ طلب کی گئی ہے جبکہ منگل کو نیشنل فوڈ سیکورٹی وزیر اعظم کو آٹا، چینی سمیت دیگر معاملات پر بریفنگ دے گی. ذرائع کے مطابق کابینہ ڈویژن، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت توانائی سے بھی بریفنگ طلب کی گئی ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے ریونیو ڈویژن سے بھی بریفنگ طلب کرلی وزیر اعظم کی جانب سے وزرا کو کارکردگی دکھانے اور عوامی مسائل حل کرنے کی ایک مرتبہ پھر ہدایت کر دی گئی ہے.

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو چیلنج کرتے ہوئے کہاتھا کہ اپوزیشن ایک ہفتہ دھرنا دے استعفے پر غور شروع کر دوں گا ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کر کے دیکھ لیں استعفی کسے دینا پڑتا ہے تحریک انصاف نے 126 دن گزارے، یہ ایک ہفتہ نہیں گزار سکتے. وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کے استعفوں کا انتظار کر رہے ہیں، ان کے اپنے لوگ مستعفی نہیں ہوں گے یہ اداروں سے جمہوری حکومت کو ہٹانے کی اپیلیں کر رہے ہیں کیا یہ جمہوری تحریک ہے؟سینیٹ الیکشن پر وزیراعظم نے کہا کہ ایک ماہ پہلے ایوان بالا کے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، الیکشن کمیشن سے جلد انتخابات کے لیے درخواست کریں گے.
ان کا کہنا تھا کہ اوپن بیلٹ پر ووٹنگ کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں، اس لیے سپریم کورٹ سے رہنمائی لیں گے انہوں نے کہا کہ نوازشریف کا بیرون ملک جانا دکھ بھری کہانی ہے۔

انہیں برطانیہ سے ڈی پورٹ کرانا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کو واپس لانے کیلئے کوشش کریں گے مگر یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتنی دیر لگے گی وزیراعظم نے کہا کہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ بات چیت کیلئے تیار ہیں، لیکن اپوزیشن کو اس میں دلچسپی نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں