60

وفاق ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ای او بی آئی کا کنٹرول، اثاثے حوالے کرے، وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وزیراعظم کی جانب سے 11 دسمبر 2019 کو بلائے گئے سی سی آئی اجلاس کے حوالے سے تیاری اجلاس کی صدارت کی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے ایجنڈے کا جائزہ لیا اور محکمہ بین الاصوبائی رابطہ(آئی پی سی) کو ہدایت کی کہ وہ اجلاس کے لیے تمام متعلقہ سمریوں کا انتظام کرے اور تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لیں تاکہ وہ تمام اہم ایشوز بشمول 1991 پانی کا معاہدہ، انرجی پالیسی، ایف بی آر کی جانب سے صوبائی محکمہ ایکسائز کے اکاؤنٹ سے براہ راست کٹوتی کیے گئے ودھ ہولڈنگ ٹیکس کی واپسی سمیت دیگر مسائل پر اپنی حکومت کا نقطہ نظر پیش کر سکیں۔

ارسا نے اکتوبر2019 میں چشمہ جہلم لنک کینال پر واقع 25 میگاواٹ کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی تنصیب کے لیے این او سی جاری کردیا ہے، صوبائی حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ارسا اس طرح کی این او سی جاری کرنے کا مجاز نہیں لہٰذا یہ معاملہ سی سی آئی کے اجلاس میں آنا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ چشمہ جہلم لنک کینال کوئی مستقل کینال نہیں بلکہ یہ تو فلڈ کینال بھی نہیں ہے کیونکہ اس میں پورا سال پانی کا بہاؤ نہیں ہوتا ہے، جب 1991 کے پانی کے معاہدے میں جب اس کے لیے پانی مختص نہیں کیا گیا تو کس طرح ایک ہائیڈرو پاور پروجیکٹ وہاں نصب کیا جا سکتا ہے۔

مراد علی شاہ نے محکمہ آب پاشی کو ہدایت کی کہ وہ ایک کیس تیار کریں اور انھیں ایک ہفتے کے اندر پیش کریں،18 ویں آئینی ترمیم کی رو سے سندھ اسمبلی نے سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014 اور سندھ امپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ایکٹ 2014 پاس کیا لہٰذا دونوں ورکرز ویلفیئر آرڈیننس آف 1976 اور اولڈ ایج بینیفٹ ایکٹ 1976 کو سندھ کی حد تک منسوخ کردیاگیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ای او بی آئی کا انتظامی کنٹرول بشمول اثاثے سندھ کے حوالے کرے، ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ای او بی آئی سندھ حکومت کو دیے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے محکمہ لیبر کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے کیس تیار کریں۔ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) پالیسی 2012 میں ترمیم تجویز کی ہے جس کے تحت 5 فیصد ’’کیرنگ ورکنگ انٹرسٹ‘‘ کا تصور شامل کیاگیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سندھ حکومت اگر ایکسپلوریشن ناکام ہوجاتی ہے تو اسے5 فیصد اخراجات کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ ان کی حکومت اس طرح کے ’’کیرینگ ورکنگ انٹرسٹ ‘‘ کے خلاف ہے ، سندھ حکومت کا 13 ارب روپے کے قریب قرضہ یا کلیم ہے جس کی وفاقی حکومت کو جلد ادائیگی کرنے کی ضرورت ہے اور انھوں نے محکمہ صحت کو ان کے لیے کیس تیار کرنے کی ہدایت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں