election 35

وقت سے قبل انتخابات نہیں کروا سکتے، ، سینیٹ انتخابات قانون کےمطابق اپنے وقت پرہوں گے

اسلام آباد : حکومت نے سینیٹ کے انتخابات قبل از وقت کروانے کا اعلان کیا تھا جس پر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا لیکن حکومت نے سینیٹ انتخابات قبل از وقت کروانے کے اعلان پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب حکومتی اعلان کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اہم بیان جاری کر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ وقت سے قبل انتخابات نہیں کرواسکتے،، سینیٹ انتخابات قانون کےمطابق اپنے وقت پرہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کروانے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ الیکشن کمیشن وقت سے قبل انتخابات نہیں کروا سکتا، سینیٹ الیکشن کاقانون موجود ہے، سینیٹ انتخابات قانون کےمطابق اپنے وقت پرہوں گے۔

ذرائع کے مطابق سینیٹ انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کے پاس 30 دن ہوتے ہیں ، 11 مارچ کوسینیٹ کے نصف ارکان ریٹائرڈ ہو جائیں گے اور 12 مارچ کوچیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب اورحلف ہونا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن11 فروری سے 11مارچ تک انتخابات کا اختیاررکھتا ہے، قبل ازوقت یا تاخیر سے انتخابات کی بات بے معنی ہے۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات مارچ کے بجائے فروری میں کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا جس میں وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات ایک ماہ قبل شو آف ہینڈ سے کروانےکا فیصلہ کیا تھا ، وفاقی کابینہ کے اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائےفروری میں ہوں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں سینیٹ الیکشن وقت سے پہلے کروانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ شو آف ہینڈز کے ذریعے سینیٹ الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ شو آف ہینڈز کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سینیٹ کے انتخابات پر پیسہ چلتا تھا، ہم نے اپنے 20 ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں کو ہارس ٹریڈنگ کرنے پر پارٹی سے نکالا۔دوسری جانب پی ڈی ایم رہنماؤں نے مارچ سے قبل سینیٹ الیکشن کروانے کی مخالفت کر رکھی ہے، پی ڈی ایم رہنماؤں نے قبل از وقت سینیٹ انتخابات کو حکومتی سازش قرار دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں