48

وہاڑی شہراورگردونواح میں اشیائے خوردنوش میں ملاوٹ اپنے عروج پرپہنچ گئی

وہاڑی شہراورگردونواح میں اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ اپنے عروج پرپہنچ گئی۔ دودھ،دیسی گھی،چائے کی پتی،مصالحہ جات،مشروبات کاخالص ملناناممکن ہوچکاہے۔فوڈاتھارٹی کے افسران کاغذی کارروائیوں تک محدودہوکررہ گئے ہیں۔واقعات کے مطابق وہاڑی شہرکے علاوہ ضلع بھرمیں کھانے پینے کی اشیاء کاملناناممکن ہوچکاہے سب سے زیادہ ملاوٹ دودھ،دہی،دیسی گھی،چائے کی پتی،مصالحہ جات،مشروبات میں کی جارہی ہے۔ضلع کے مختلف علاقوں میں کھاداورکیمیکلزوغیرہ سے دودھ تیارکرنے کی فیکٹریوں میں دودھ کے نام پرکھلے عام مضرصحت زہرفروخت کیاجارہاہے۔مضرصحت اشیائے خورد ونوش کے استعمال سے ضلع بھرمیں لوگوں کی بہت بڑی تعدادہیپاٹائٹس،ٹی بی،گردوں کے امراض،معدہ،جگرودیگرامراض میں مبتلا ہوچکی ہے۔

جبکہ مقامی سرکاری ونجی ہسپتال مضراشیائے خوردونوش کے استعمال کرنے والے مریضوں سے بھرے پڑے ہیں۔ڈاکٹرزکاکہناہے کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ کے انسانی زندگیوں پرانتہائی خطرناک اثرات مرتب ہورہے ہیں۔دوسری طرف محکمہ فوڈاتھارئی کے افسران اورعملہ محض کاغذی کارروائیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں اوران کی زیادہ ترکارروائیاں چھوٹے درجہ کے تاجروں کے خلاف ہوتی ہیں جبکہ ملاوٹ کے مکروہ دھندہ میں ملوث بڑے بڑے انسانیت کے دُشمن سرعام اپنادھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شہریوں نے وزیراعلیٰ سردارعثمان بزدار،کمشنرملتان ڈویژن اورڈپٹی کمشنرسے ان عناصرکے خلاف سخت کارروائی کامطالبہ کیاہے

اپنا تبصرہ بھیجیں