56

ویزا لے کر آنے والے غیر ملکیوں کو بھی کرتارپورراہداری سے داخلے کی اجازت پر غور

حکومت نے ویزا لے کر پاکستان آنے والے بھارتی اور این آر آئیز کو کرتارپور راہداری کے راستے انٹری کی اجازت دیئے جانے پربھی غورشروع کردیا گیا ہے۔

کرتارپور کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کے ذرائع نے بتایا کہ ایسے بھارتی شہری جو ویزا لے کر پاکستان آنا چاہتے ہیں انہیں کرتارپور راہداری کے راستے انٹری کی اجازت دیئے جانے پر بھی غور ہورہا ہے، دہری شہریت کے حامل بھارتی شہری بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تجویز کے مطابق ویزا لے کر آنے والے بھارتی شہریوں کو کرتارپور صاحب درشن کے بعد پاکستان کے ان شہروں میں جانے کی اجازت ہوگی جہاں کا ان کے پاس ویزا ہوگا۔

23 نومبر کو گورودوارہ صاحب سے درشن کے بعد واپس جانے والے ایک جتھے کے سامان کی کئی بارچیکنگ کی گئی اورسامان کو سراغ رساں کتوں کی مدد سے بھی چیک کیاگیا۔ پٹیالہ ضلع سے تعلق رکھنے والے ایک سردارہربجن سنگھ نے بتایا کہ وہ اپنی فیملی کے ساتھ ایک دن کا سفر طے کرکے ہفتے کی صبح 9 بجے ڈیرہ بابانانک پہنچے تھے ۔یہاں ان کے فنگر پرنٹ لئے گئے اورانٹری کی اجازت مل گئی، دوپہر کو جب ہم لوگ واپس آئے تو ہمارے سامان کی کئی بار چیکنگ کی گئی ، ہم پاکستان سے جو پرشاد لے کر آئے تھے اسے کتے سونگھتے رہے۔ یہ پرشاد کی بے حرمتی ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان والے ہمیں آنکھوں پر بٹھاتے ہیں، ایک ایک یاتری کی خدمت کے لئے وہاں اسٹاف موجود ہے جب کہ بھارتی حکام کا رویہ انتہائی ہتک آمیز ہے۔

مزید برآں گورودوارہ دربارصاحب میں درشن کے بعد واپس جانے والے یاتریوں سے بھارتی کسٹم اورامیگریشن کے عملے کے نارواسلوک کے واقعات سامنے آئے ہیں جس پر سکھ تنظیموں نے افسوس اورمذمت کا اظہار کیا ہے۔

سربت دا بھلا نامی این جی او جس کا مرکزی دفتر دبئی میں ہے اس کے سربراہ ایس پی سنگھ نے لاہور کے ایک مقامی ہوٹل میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری کھول کرایسا کام کردیا ہے جسے پوری دنیا میں بسنے والے سکھ ساری زندگی یادرکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے سکھ پاسپورٹ نہ ہونے کہ وجہ سے کرتارپور راہداری کے راستے درشن کے لئے گورودوارہ دربارصاحب کرتارپور نہیں آسکتے ہیں۔ اس حوالے سے انہوں نے بھارتی حکومت سے درخواست کی تھی جس پر بھارتی حکومت نے ڈیرہ بابانانک میں پاسپورٹ آفس کھولنے کا فیصلہ کیاہے

ایس پی سنگھ نے کہا جوبھی مستحق سکھ یاتری اپنا پاسپورٹ بنوانا چاہے اسکی فیس ان کی این جی او اداکرے گی۔ اس سے قبل یہ این جی او روزانہ کئی یاتریوں کی 20 ڈالرانٹری فیس بھی ادا کررہی ہے۔ ایس پی سنگھ کا کہنا ہے ان کے اس اقدام کا مقصدیہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ سکھ یاتری گورودوارہ صاحب آسکیں۔ انہوں نے بتایا کہ جس یاتری کا وہ پاسپورٹ بنوائیں گے، اس کے لئے یہ لازمی ہوگا کہ وہ ایک بار کرتارپور صاحب درشن کے لئے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں