38

ٹرمپ نے اتنی طویل گفتگو شروع کردی کہ میں نے تنگ آکرفون کاٹ دیا.ملا عبدالغنی برادر عالمی ادارہ صحت اوریونسیف کا 4ہزار سکول وکالج اور 2سوہسپتال کھولنے کے لیے افغان طالبان سے براہ راست معاہدہ ‘اشرف غنی حکومت پریشان

ٹرمپ نے اتنی طویل گفتگو شروع کردی کہ میں نے تنگ آکرفون کاٹ دیا.ملا عبدالغنی برادر
عالمی ادارہ صحت اوریونسیف کا 4ہزار سکول وکالج اور 2سوہسپتال کھولنے کے لیے افغان طالبان سے براہ راست معاہدہ ‘اشرف غنی حکومت پریشان

افغان طالبان کی مذکراتی ٹیم کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا کی سپرپاور امریکا کے صدر نے ان سے فون پر طویل گفتگو کی ہے اور ٹرمپ نے اتنی طویل گفتگو شروع کردی کہ انہوں نے 35منٹ بعد امریکی صدر کی کال کاٹ دی. کوئٹہ میں افغان مہاجرین کو تعلیم دینے والے مدرسے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ملاعبدالغنی برادر کی سربراہی میں پاکستان کے دورے پر ہے انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان کے اندر اس وقت تک مذکرات نہیں کریں گے جبکہ افغانستان کی فضائی حدود امریکیوں اور اتحادیوں کے قبضے میں ہے.

انہوں نے کہا کہ کل تک جو ہمیں حقیر سمجھتے تھے آج وہ ہمارے وفود کا کھڑے ہوکر استقبال کرتے ہیں ملابرادر نے کہا یہ جہاد کی برکات ہیں دشمن ہمیں بیس سال میں پوری دنیا کی طاقت لگا کر بھی زیرنہیں کرسکا اور آج وہ ہمارے ساتھ مذکرات پر مجبور ہے. دوسری جانب یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے ”یونسیف“نے 4ہزار سکول وکالج اور 2سوہسپتال کھولنے کے لیے افغان طالبان سے براہ راست معاہدہ کیا ہے جس کے تحت افغانستان میں ”یونسیف “اور طالبان مل کر سکول وکالج اور ہسپتال قائم کریں گے اس معاہدے میں موجودہ افغان حکومت کا کہیں ذکر نہیں ہے معاہدے میں اس عمل کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ”یونسیف“طالبان کے ساتھ مل کر مزید تعلیمی ادارے ‘ہسپتال اور صحت کے مراکزقائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اسی طرح ایک معاہدہ عالمی ادارہ صحت نے براہ راست افغان طالبان کے ساتھ ہوا ہے اس معاہدے میں بھی اشرف غنی حکومت کا کہیں ذکر نہیں ہے.
افغانستان کے امور پر گہری نظررکھنے والے سنیئرصحافی اور ”اردوپوائنٹ“کے مدیر اعلی میاں محمد ندیم نے کہا کہ 2001میں جب جنگ شروع ہوئی تھی اس وقت سے یہ بات ہوتی رہی ہے کہ یہ معاملات جنگ کے ذریعے حل نہیں ہوسکتے اس کے لیے مذکرات کرنا ہوگا مگر اس وقت امریکا اور نیٹو اتحادی طاقت کے گھمنڈ میں کسی کے مشورے کو اہمیت دینے کو تیار نہیں تھے انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں برطانیہ اور روس کے کچھ ماہرین نے امریکی صدر کو خطوط بھی لکھے تھے مگر انہوں نے متکبرانہ اندازمیں جواب دیا تھا کہ ”ہم امریکی معاملات کو اپنے اندازمیں ڈیل کرتے ہیں“ .
انہوں نے کہا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکا اور اس کے نیٹو اتحادی طویل جنگ سے تھک گئے ہیں اس وقت افغانستان میں عملی طور پر صرف امریکا ہے اس کے نیٹواتحادیوں میں صرف گنتی کے چند ملکوں کی نمائندگی افغانستان میں رہ گئی ہے میاں ندیم نے کہا کہ آنے والے وقت میں کابل میں ایک قومی حکومت نظر آرہی ہے جس کی سربراہی افغان طالبان کے پاس ہوگی اور اس پر مکمل اتفاق رائے ہوچکا ہے اور فریقین کے درمیان 80فیصد تک معاملات طے پاچکے ہیں باقی 20فیصد آنے والے دنوں میں طے پاجائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں