trump 174

ٹرمپ نے شکست تسلیم کرلی: جوبائیڈن کو اقتدار منتقل کرنے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات میں اپنی شکست کو تسلیم کرتے ہوئے نومنتخب صدر جو بائیڈن تک اقتدار کی منتقلی کے باضابطہ عمل کا آغاز کرنے کے لیے رضامندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک اہم وفاقی ایجنسی کو ضروری اقدامات کرنے کی ہدایات دے چکے ہیں ادھر امریکی حکومت کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن (جی ایس اے) نے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کی کامیابی تسلیم کرتے ہوئے سرکاری نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے.
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جی ایس اے کو انتقالِ اقتدار کی تیاری شروع کرنے کی ہدایت کی ہے تاہم ساتھ ہی انہوں نے مزاحمت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے جی ایس اے کی ایڈمنسٹریٹر ایمیلی مرفی نے نومنتخب صدر جو بائیڈن کو ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صدارتی انتخاب میں بائیڈن کی فتح تسلیم کرنے کا فیصلہ انہوں نے قانون اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر آزادانہ طور پر کیا ہے.
مرفی نے اپنے خط میں کہا ہے کہ ان پر یہ فیصلہ کرنے کے لیے وائٹ ہاﺅس یا اور کسی ادارے کے ذمے دار کی جانب سے بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی دباﺅ نہیں تھا حکام کا کہنا ہے کہ ایمیلی مرفی نے بائیڈن کی کامیابی تسلیم کرنے کا فیصلہ بظاہر ان ریاستوں کے ووٹس چیلنج کرنے کی صدر ٹرمپ کی کوششوں کی ناکامی کے بعد کیا ہے جہاں دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ تھا.
ریاست مشی گن کے الیکشن حکام نے پیر کو ہی انتخاب میں جو بائیڈن کو باضابطہ طور پر فاتح قرار دیا ہے صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم نے دیگر کئی ریاستوں کی طرح مشی گن میں بھی دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے اسی طرح ریاست پنسلوینیا کی اعلی عدالت نے ری پبلکن امیدوار کی دھاندلی اور ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے ووٹوں کو گنتی سے نکالنے کے لیے دائر درخواست کو رد کردیا تھا .
جی ایس اے کی سربراہ ایمیلی مرفی کا خط منظرعام پر آنے کے تھوڑی ہی دیر بعد صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر اعلان کیا کہ انہوں نے ملک کے مفاد میں جی ایس اے کی ایڈمنسٹریٹر ایمیلی مرفی اور ان کی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ وہ انتقالِ اقتدار سے متعلق جو قواعد و ضوابط ہیں اس پر کام شروع کر دیں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو بھی کہا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کریں ایمیلی مرفی کی تعیناتی ٹرمپ نے بطور صدر کی تھی اور انہیں صدر کی ٹیم کے اہم اور بااثرلوگوں میں شمار کیا جاتا ہے .
صدر ٹرمپ نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ وہ قانونی جنگ پوری شدت سے جاری رکھیں گے اور انہیں یقین ہے کہ وہی کامیاب ہوں گے دوسری جانب نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن نے 20 جنوری کو حلف برداری سے قبل اپنی کابینہ کے ارکان کے انتخاب کا عمل تیز کر دیا ہے جی ایس اے کے سربراہ کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ری پبلکن حلقوں سے انتقالِ اقتدار کا عمل شروع کرنے اور جو بائیڈن کی فتح تسلیم کرنے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے.
ریاست ٹینیسی سے سبکدوش ہونے والے ری پبلکن سینیٹر لامر الیگزینڈر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو پہلے ملک کو ترجیح دینی چاہیے اور انہیں بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے لامر الیگزینڈر اس سے قبل بھی کئی بار انتقالِ اقتدار کا مطالبہ کر چکے ہیں اسی طرح ریاست اوہائیو سے ری پبلکن سینیٹر روب پورٹمین نے جی ایس اے کی سربراہ کو کہا ہے کہ وہ انتقالِ اقتدار کے سلسلے میں فنڈز جاری کریں.
ایملی مرفی نے کہاہے کہ نو منتخب صدر کے استعمال کے لیے 63 لاکھ ڈالر کا ابتدائی فنڈ دستیاب ہو گا صدر ٹرمپ کی جانب سے ”حق کی لڑائی“ جاری رکھنے کا اعادہ کرنے کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اپنے ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے میں ایملی اور ان کی ٹیم کو ابتدائی پروٹوکولز مکمل کرنے سے متعلق ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کر رہا ہوں . مرفی کا کہنا ہے کہ انہیں وائٹ ہاﺅس کی جانب سے اس فیصلے کی ٹائمنگ کے حوالے سے دباﺅ کا سامنا نہیں کرنا پڑا انہوں نے بائیڈن کو اس خط میں کہا کہ میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ مجھ پر اس سلسلے میں تاخیر کرنے کے بارے میں کہیں سے کوئی دباﺅنہیں ڈالا گیاانہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں آن لائن، فون اور میل کے ذریعے خاندان، سٹاف اور یہاں تک کہ ان کے پالتو جانوروں سے متعلق دھمکیاں ضرور ملیں تاکہ مجھے اس فیصلے کو قبل از وقت کرنے پر آمادہ کیا جا سکے انہوں نے کہا کہ ان ہزاروں دھمکیوں کے سامنا کرتے ہوئے بھی میں نے قانون کی بالادستی قائم رکھی ہے.
انہیں دونوں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقتدار کی منتقلی کے عمل میں تاخیر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے جو عام طور پر الیکشن اور افتتاحی تقریب کے درمیان ایک معمول کا عمل سمجھا جاتا ہے ایملی مرفی کو ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جانب سے پیر کو منتخب نمائندوں کو اس تاخیر سے متعلق بریف کرنے کے لیے بلایا گیا تھا تاہم وہ وہاں نہیں جا سکیں.
ادھر بائیڈن کی ٹیم نے ان کے خط کو خوش آئند قرار دیا ہے انہوں نے کہاکہ آج کا فیصلہ اس لیے ضروری تھا کہ اس سے قوم کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی ان میں عالمی وبا پر قابو پانا اور معیشت کی بحالی شامل ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی اداروں کے ساتھ باقاعدہ طور منتقلی کے عمل کو شروع کرنا ایک حتمی فیصلہ ہے جو انتظامی سطح پر کیا گیاجوبائیڈن 20 جنوری کو امریکا کے46ویں صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف لیں گے.
بتایا جارہا ہے کہ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن کی جانب سے باضابط خط جاری ہونے کے بعد ریاست ڈیلاویئرکے شہر ولمنگٹن میں قائم بائیڈن کے کیمپ میں سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں اور نومنتخب صدر اپنی کابینہ کے لیے نام فائنل کررہے ہیں آج ہی انہوں نے سابق نائب وزیرِ خارجہ ٹونی بلنکن کو وزیرخارجہ مقررکرنے کا اعلان کیا ہے 58 سالہ ٹونی خارجہ امور کی پالیسی سازی کا دو عشروں پر محیط تجربہ رکھتے ہیں‘بلنکن جو ان پالیسیوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے اس سے پہلے وہ سابق صدر بل کلنٹن کی انتظامیہ میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں.
وہ سابق صدر اوباما کے دور میں قومی سلامتی کے نائب مشیر بھی رہے سابقہ صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں بلنکن سینٹ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ڈیموکریٹک سٹاف ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے بلنکن کو سینیٹ سے اپنی نامزدگی کی منظوری حاصل کرنا ہو گی. امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بائیڈن اپنے دو قریبی تجربہ کار ساتھیوں جیک سلی ون کو اپنا قومی سلامتی کا مشیر اور افریقی امریکی لنڈا تھامس گرین فیلڈ کو امریکہ کا اقوام متحدہ میں سفیر تعینات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں