44

پاکستان میں ریپ کیسز میں لوگ مقدمات واپس کیوں لے لیتے ہیں؟

’میں چھ سال کی تھی جب میرا ریپ ہوا۔ لیکن اس کے بعد مجھے اٹھارہ سال اس بات کو سب کے سامنے لانے میں لگے کیونکہ بچوں کی کوئی نہیں سنتا۔ جس شخص نے میرا ریپ کیا وہ میرے والد کے کزن ہیں اور میرے چچا لگتے ہیں۔ پچھلے برس میں نے اس شخص کے خلاف اپنے والد کے کہنے پر ایف آئی آر بھی درج کرائی لیکن پھر واپس لے لی۔ پھر خاندان میں یہ بھی سننے کو ملا کہ توجہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ شاید دماغی مریض ہے۔‘

یہ کہانی ہے راولپنڈی کی رہائشی عنبر (فرضی نام) کی جو اس وقت ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی ہیں اور ان کے خوف اور درد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انٹرویو کے لیے حامی بھرنے کے بعد انھوں نے پہلے انکار کر دیا پھر خود ہی حامی بھر لی۔

اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کوئی نہیں بھول سکتا لیکن اس کے بارے میں بات کرنا اسی اذیت ناک لمحے کو کئی بار جینے کے مترادف ضرور ہوتا ہے۔

پاکستان میں عمومی طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ریپ کیسز میں زیادہ تر مقدمات درج نہیں ہوتے اور اگر ہو جائیں تو ان کے کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے ہی لوگ تھک ہار کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

حال ہی میں راولپنڈی میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ایک ملزم سہیل ایاز کا کیس سامنے آیا ہے۔ اس کیس میں پولیس کا دعویٰ ہے کہ پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں سہیل نے 30 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف کیا لیکن پولیس اس وقت اس کشمکش میں ہے کہ سہیل ایاز کے گھر سے ملنے والی ویڈیوز میں موجود بچوں کے والدین کو کیسے مقدمہ درج کرنے کے لیے راضی کیا جائے۔

’کون بات کرے گا یہ ایک اچھا سوال بھی ہے اور ایک المیہ بھی‘
راولپنڈی سٹی پولیس کے سربراہ فیصل رانا کا کہنا ہے کہ ’ہماری مجبوری ہے کہ جب تک کوئی سامنے آئے گا نہیں تب تک ایسے لوگوں کو سزا ملے گی نہیں۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ہمارے پاس اس وقت ملزم سہیل ایاز کے گھر سے ملنے والی تقریباً 25 کے قریب ویڈیوز ہیں۔ ساتھ ہی اس کا اپنا بیان ہے۔ ہم والدین کو سمجھا سکتے ہیں، ان کی پشت پناہی کر سکتے ہیں تاہم کسی کے والدین کو مجبور نہیں کر سکتے کیونکہ وہ بھی غلط ہے۔‘

فیصل رانا اب تک جنسی زیادتی کے کئی مقدمات میں ملزمان کو پھانسی کی سزا دینے کی غرض سے پیش ہوئے ہیں لیکن ان کے بقول ’پھانسی سے ہماری اور والدین کی تسلی تو ہو جاتی ہے لیکن واقعات تو نہیں رکتے۔ پھانسی تو زینب کے مقدمے میں بھی ہوئی، پھر بھی ایسے کیسز آنا نہیں رکے۔‘بچوں کی کوئی نہیں سنتا‘
سٹی پولیس آفس راولپنڈی کے مطابق رواں سال ضلع میں تقریباً 55 بچوں کے ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 23 بچیاں اور 32 بچے شامل ہیں۔ اس بارے میں فیصل رانا نے کہا کہ اس وقت پولیس کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ والدین کے سامنے نہ آنے سے منسلک ہے۔

’اکثر ہوتا ہے کہ ہم مقدمہ تیار کرتے ہیں، عدالت جاتے ہیں اور پھر پتا چلتا ہے کہ متاثرہ خاندان پیش ہی نہیں ہوا۔ یا پھر عدالت کے باہر پیسوں کا لین دین ہو جاتا ہے۔ جس میں زیادہ تر زبردستی منھ بند رکھنے کو کہا جاتا ہے۔‘

اس طرح کے ماحول میں کئی لوگ بات نہ کرنے کو ترجیح دے کر چپ سادھنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ سامنے نہ آنے کی وجوہات کیا ہیں، اس بارے میں، بی بی سی نے جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے دو لوگوں سے جاننے کی کوشش کی۔

عنبر سے میری بات فون پر ہوئی اور اس دوران انھوں نے پوری بات آواز میں بنا کسی لرزش کے کہہ ڈالی۔ ایسا تاثر مل رہا تھا کہ وہ جتنی بھی بات ہے ایک سانس میں ایک مرتبہ کہہ دینا چاہتی ہیں۔

عنبر کے تین اور بہن بھائی ہیں اور وہ ان میں سب سے چھوٹی ہیں۔ اپنی بات بڑھاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’میرا ریپ میرے چچا نے کیا۔ ہم ان چچا کے گھر ہر دوسرے روز پہنچ جاتے تھے۔ حالانکہ ہمارے گھروں میں بہت زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ ان کی بیوی زیادہ تر اپنے کمرے میں خاموش بند رہتی تھیں۔ لیکن چچا سب سے ملتے تھے۔ ہم چاروں بہن بھائی سکول کی چھٹیاں ہوتے ہی ان کے گھر جاتے تھے۔‘

’یہ سنہ 2000 کی بات ہے۔ ہم سب سکول کی چھٹیوں کے دوران چچا کے گھر میں ہی تھے۔ میں ان کے گھر کے صحن میں کھیلتے کھیلتے سو گئی۔ جب رات میں ایک بار آنکھ کھلی تو میں بستر میں تھی۔ دوسری بار جب آنکھ کھلی تو میں نے چچا کو دیکھا۔ اور انھوں نے مجھے خاموش رہنے کو کہا۔‘

’میں ان کے گھر آئی ایک کپڑوں میں تھی لیکن مجھے دوسرے کپڑوں میں یہ کہہ کر بھیجا گیا کہ اس نے اپنے کپڑے خراب کردیے ہیں۔ مجھے یہ یاد ہے کہ میرے پیٹ میں کئی دنوں تک درد رہا۔ میں باتھ روم نہیں جاتی تھی جب تک میرے کپڑے خراب نہیں ہو جائیں۔ کیونکہ میں نے ایک بار کوشش کی تھی اور خون نکلا تھا۔ میں نے یہ بات کسی کو بھی نہیں بتائی۔ لیکن چچا کے گھر جانا پڑتا تھا۔ ان کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میں نے ضد کرنا شروع کر دی اور ان سے بدتمیزی بھی کی۔ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ اس کے بعد میرے چچا نے میرا تین بار اور ریپ کیا۔‘

عنبر نے بتایا کہ انھوں نے بظاہر کسی سے بات نہیں کی ’کیونکہ بچوں کی کوئی نہیں سنتا۔‘

یکن کچھ برس بعد ان کو ایسے خواب آنے لگ گئے جن میں ہر دفعہ ان کے ساتھ کوئی ریپ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور ان کی چیخ روکنے کے لیے ان کا گلا دبا رہا ہے۔ ایک وقت ایسا آیا کہ عنبر نے سونا چھوڑ دیا۔ پھر ایک دوست کے کہنے پر ایک ماہرِ نفسیات سے بات کی اور عنبر نے اپنے تمام تر خواب ان کو سنائے۔

چھ ماہ پہلے عنبر نے اپنے والد سے بات کرنے کی ٹھانی۔ ’میری والدہ نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور وہ آج تک مجھ پر شک کرتی ہیں۔ میرے والد میرے ساتھ پولیس سٹیشن گئے تھے۔ تاکہ پولیس افسران کوئی بدتمیزی نہ کریں۔ میرے چچا کو تھانے میں ایک ہفتہ گزارنا پڑا لیکن اس دوران اتنا تماشا ہوا جس کے نتیجے میں میرے والد بیمار ہو گئے۔ میں نے مقدمہ واپس لے لیا۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ مجھ پر یہ الزام لگ چکا ہے کہ میں نے اپنے والد کو یہ بات بتا کر بیمار کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کو جلدی ریٹائرمنٹ لینی پڑگئی۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ اس لیے ہے کیونکہ ایک طرف آپ خود کے ساتھ ایک جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں اور دوسری طرف جب ہمت آجاتی ہے تو لوگ بولنے نہیں دیتے۔ میرے سامنے اب میرا کریئر ہے۔ کون بات کرے؟‘

’لڑکوں کا ریپ تھوڑی ہوتا ہے‘
’بچے ہوں یا بڑے ریپ کے بعد کوئی بات کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ بچوں کی عمر یہ سوچنے میں گزر جاتی ہے کہ ان کے ساتھ جو ہوا وہ ریپ تھا بھی یا نہیں۔ اور بڑے اپنی عزت خراب ہونے کے ڈر سے چپ رہتے ہیں۔‘

25 سالہ عمران (فرضی نام) کا تعلق بھی راولپنڈی سے ہے۔ انھوں نے فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال پہلے ان کو ایک کال سنٹر میں ان کے رشتہ دار نے نوکری پر لگوایا تھا۔

’یہی رشتہ دار اس کال سنٹر میں لائن مینیجر کے اسسٹنٹ تھے۔ میرے کھانے پینے سے لے کر کام پر ہونے والی کوئی بھی پریشانی کا خیال رکھا جاتا تھا۔ میرا کام رات نو بجے شروع ہوتا تھا اور صبح پانچ بجے تک ختم ہو جاتا تھا۔ اور یہ شخص کوشش کرتا تھا کہ یہ دفتر میں رہے جب تک میں رہوں۔ مجھے کئی بار اپنے آفس میں بلا کر سگریٹ پلاتا تھا۔ پچھلے برس، ایک رات اسی طرح مجھے قابو کر کے اس نے میرا ریپ کیا۔
عمران نے بتایا کہ ’میرا قد 6 فٹ ہے۔ میں متواتر جم جاتا ہوں۔ جس شخص نے میرا ریپ کیا اس کا قد مجھ سے آدھا ہو گا۔ لیکن اس لمحے مجھ سے کچھ نہیں ہو سکا۔ میں گھر آ کر بہت رویا۔ پھر غصے میں چیزیں توڑنا شروع کیں۔‘

عمران نے بتایا کہ ان کے گھر والوں کو لگا کہ دوستوں سے جھگڑا ہوا ہے اس لیے چیزیں توڑ رہا ہے۔

’اب میں آپ کو کیا بتاؤں۔ میں نے پہلے اپنے بچپن کے دو دوستوں کو بتایا۔ انھوں نے کہا پاگل ہے؟ لڑکوں کا ریپ تھوڑی ہوتا ہے۔ میں نے ان سے ملنا جلنا بند کر دیا۔ پھر بالآخر میں نے اپنی گرل فرینڈ کو سب بتا دیائ ایک ایک بات اور یہ بھی کہہ دیا کہ اگر مجھ سے رشتہ نہیں رکھنا تو بھی ٹھیک ہے۔‘

عمران نے کہا کہ ان کے دوستوں کے ردعمل کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلموں میں بھی جہاں لڑکوں کو چھیڑنے کی بات آتی ہے وہاں مزاحیہ موسیقی ڈال دی جاتی ہے۔

’جیسے کہ ایک ہندی فلم میں نے دیکھی اس میں لڑکے کو سنگاپور میں چند اور لڑکے گھیر کے اس کے کپڑے پھاڑ دیتے ہیں۔ اس کے باقی دوست اس کو ڈھونڈ کر اسے بچا لیتے ہیں۔ لیکن بعد میں مزاحیہ میوزک آ جاتا ہے اور سب ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔ کیونکہ لڑکوں کا ریپ نہیں ہوتا۔‘

عمران (فرضی نام) نے اس دوران انٹرنیٹ پر ایسے سماجی گروپس کو ڈھونڈنا شروع کیا جن میں لوگ ریپ سے متعلق بات کرتے ہوں۔ چند ایسے گروپ ان کے سامنے آئے لیکن بات کرنے کے ڈر سے عمران نے کچھ پوسٹ نہیں کیا۔

’اس دوران میں خود کو ہمت دلانے کے لیے جو کوشش ہوسکتی تھی کرتا رہا۔ لیکن اس سال تقریباً چھ ماہ پہلے میں نے قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کروا دی۔ میرے گھر والے مذہبی سوچ رکھتے ہیں تو ان سے بات کرنے کا سوال ہی نہیں بنتا تھا۔‘

لیکن اس کے بعد عمران کو دفتر میں ہراساں کیا گیا جو اس حد تک پہنچ گیا کہ انھوں نے اپنی درج کی ہوئی ایف آئی آر واپس لے لی۔

’افسوس زیادہ اس بات کا ہے ہم نے اپنے لیے خود ایسی مشکلات بنا ڈالی ہیں جس کے نتیجے میں کوئی سامنے آنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ لڑکیوں کو کہتے ہیں کہ خاندان کی عزت ڈبو دی۔ لڑکوں کو کہتے ہیں کہ مرد بنو۔ ایسے میں کیا کیا جاسکتا ہے؟‘

اپنا تبصرہ بھیجیں