110

پاکستان میں فضائی آلودگی اوسط زندگی کے تین سال کم کرسکتی ہے

ایک مطالعے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسلسل فضائی آلودگی میں رہنے سے انسانی زندگی میں اوسط 3 سے 4 سال کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس فہرست میں جنوبی ایشیا سرِ فہرست ہے جہاں چین میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی انسانی زندگی کے اوسط عمر سے 4.1 سال، بھارت میں 3.9 برس اور پاکستان میں اوسط 3.8 سال کم ہوسکتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آلودہ فضا میں مسلسل رہنے سے امراضِ قلب، سانس میں دقت اور بلڈ پریشر جیسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے آپ کو متاثر کرسکتی ہے اور کسی عارضے میں مبتلا کرکے بیمار کرسکتی ہیں۔

جرمنی میں میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے یہ سروے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں یا تیل اور گیس کے جلنے سے پیدا ہونے والے بخارات پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرسکتے ہیں اور کئی امراض کی وجہ بن سکتے ہیں۔

یہ تحیق جرنل آف کارڈیالوجی ریسرچ میں شائع ہوئی ہے یہاں تک کہ سروے سے وابستہ ایک ماہر ہوز لیلی ویلڈ نے اسے سگریٹ نوشی سے زیادہ تباہ کن قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ فضائی آلودگی پوری دنیا میں 88 لاکھ افراد کو قبل از وقت موت کے منہ میں دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ توانائی کے صاف اور ماحول دوست ذرائع سے اسے کم کیا جاسکتا ہے۔

قبل از وقت موت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی ملیریا سے 19 گنا، ایچ آئی وی ایڈز سے 9 گنا اور شراب نوشی سے 3 گنا زائد اموات کی وجہ بن رہی ہے۔ ان میں امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور فالج سرِ فہرست ہیں جبکہ پھیپھڑے کے سرطان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

ماہرین نے بھارت کے آلودہ ترین علاقے اترپردیش کو بھی اپنے مطالعے میں بطورِ خاص شامل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہاں 20 کروڑ لوگ رہتے ہیں اور زندگی میں ساڑھے 8 برس کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ دوسرے نمبر پر چین کا صوبہ ہیبائی ہے جس کی آبادی ساڑھے 7 کروڑ ہے اور اوسط عمر میں 6 سال کی کمی نوٹ کی گئی ہے۔

ماہرین نے خواتین کے حوالے سے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں گھر کے اندر لکڑی، تیل اور کوئلے وغیرہ کے جلنے سے اندرونی فضائی آلودگی انتہائی خطرناک ہے جو بالخصوص حاملہ خواتین کے لیے بہت مضر ثابت ہورہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں