Pak Vs New Cricket Team 33

پاکستان کی ٹی ٹونٹی حکمت عملی نوکیا 3310 کی ری لانچنگ کے مترادف: کرکٹ تجزیہ کار

لاہور: نیوزی لینڈ کیخلاف حالیہ اختتام پزیر ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان کی کارکردگی میں گیم پلان اور حکمت عملی کا فقدان واضح تھا۔ قومی ٹیم کو نیوزی لینڈ کیخلاف سیریز میں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ منگل کے روز پاکستان نے آخری ٹی ٹونٹی میں 174 رنز کے ہدف کا کامیابی سے تعاقب کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی جو ٹیسٹ سیریز میں جانے کے لئے قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے بہت ضروری تھا۔
کئی ماہرین اور صحافیوں کی طرف سے ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان کی کارکردگی پر تنقید کی گئی ۔ پی ایس ایل کی فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ کے سٹریٹیجک منیجر حسن چیمہ نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے قومی ٹیم کا موازنہ بدنام زمانہ ‘نوکیا 3310’ سے کیا۔

حسن چیمہ کا کہنا تھا کہ پاکستان اب بھی ماضی کے شاندار دنوں کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے ، جس طرح نوکیا نے 3310 کے ساتھ کیا تھا جب انہوں نے کچھ سال قبل اسے دوبارہ لانچ کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جب نوکیا 3310 کو کچھ سال قبل دوبارہ لانچ کیا گیا تھا تو پرانی یادوں کی وجہ سے لوگ پرجوش ہوگئے تھے جس کی وجہ سے فروخت میں اضافہ ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی فون 10 یا سیمسنگ ایس 20 کے دور میں آپ کسی موبائل فون سے صرف پرانی یادوں کے باعث کچھ دیر ہی متاثر ہوسکتے ہیں کیوں کہ ہر چیز کا اپنا وقت ہوتا ہے۔ حسن چیمہ نے مزید کہا کہ پچھلے 15 سال سے پاکستان کرکٹ ٹیم نوکیا کی طرح کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ قومی ٹیم اپنی ماضی کی عظمت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے حالانکہ دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی ٹیم ٹی ٹونٹی کی بنیادی غلطیاں کرتی رہی ہے اور اب بھی پرانی ون ڈے حکمت عملی پر انحصار کرتی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ پاکستان ٹاپ تھری میں 2 ایسے بلے باز استعمال کررہا ہے جو موجودہ ٹی ٹونٹی کرکٹ سے مطابقت نہیں رکھتے اور صورتحال کے مطابق بلے بازوں کو نہیں بھیج رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوکیا 3310 کی سوچ بھی نہیں ہے بلکہ نوکیا 1110 کی حکمت عملی ہے جو اس سے بھی زیادہ پرانا فون ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں