23

چاہتا ہوں ایساانتخابی عمل ہو دونوں جانب امیدوار نتائج تسلیم کرے،وزیراعظم کاپاکستا ن میں الیکٹرونک ووٹنگ لانے کا اعلان

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے پاکستا ن میں الیکٹرونک ووٹنگ لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ چاہتے ہیں ایسا انتخابی عمل ہوکہ دونوں جانب امیدوار نتائج تسلیم کرے، چاہتاہوں جو بھی ہارے وہ شکست تسلیم کرے۔ان کاکہناتھا کہ انتخابی اصلاحات پرکام کیاہے،الیکشن میں ماڈرن ٹیکنالوجی کااستعمال ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے صوبوں میں پیسہ چلتا ہے،ایم پی ایز کو پیسہ دیکر ووٹ خریدے جاتے ہیں،چاہتے ہیں سینیٹ میں یہ چیزیں ختم ہوں،سب کہتے ہیں سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے،ہم نے خیبرپختونخوا میں 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالاتھا،جوجماعتیں کہتی ہیں سینیٹ میں پیسہ چلتا ہے وہ اس ترمیم کو پاس کرائیں ،سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کیلئے ترمیم لائیں گے،کوئی بھی برسر اقتدار حکومت ایسی اصلاحات نہیں لاسکتی۔

وزیراعظم عمران خان نے انتخابی مہم سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ گلگت بلتستان کے عوام کابھرپوراعتمادپرشکرگزارہوں، گلگت بلتستان کی خواتین نے سرد موسم میں گھروں سے نکل کر فرض ادا کیا،گلگت بلتستان کوصوبائی حیثیت دینی تھی،عوام سے کیاگیا وعدہ پوراکریں گے، گلگت بلتستان کوصوبہ بنانےکاوعدہ پوراکریں گے،انہوں نے کہاکہ 2013 کے انتخابات میں سب نے کہا کہ دھاندلی ہوئی، پیپلزپارٹی نے2013 کے انتخابات کوآراوالیکشن کہاتھا،تحریک انصاف نے کہاتھاصرف 4 حلقے کھول دیں،4حلقے کھلنے سے سب کچھ سامنے آجاناتھا،4 حلقے کھولنے کامطالبہ 2018 کے الیکشن کیلئے کیاتھا،ایک سال تک 4 حلقے کھولنے کامطالبہ کرتے رہے،ایک سال بعد دھرنوں کافیصلہ کیا،4حلقے نہ کھولنے پرہم نے ڈی چوک میں 126دن دھرنادیا،126دن کادھرناانتخابی عمل کوشفاف بنانے کیلئے تھا،ہم نے 4 حلقے کھولنے کیلئے تمام قانونی فورمزپر آوازاٹھائی، جب 4 حلقے کھولے گئے توچاروں میں دھاندلی تھی،ان کاکہناتھاکہ صاف اورشفاف الیکشن کی مہم میں نے چلائی تھی،شفاف الیکشن کیلئے تحریک چلی،لوگوں کی جانیں بھی گئیں۔
وزیراعظم نے کہاکہ واحدکپتان تھاجوبھارت جاکران کے امپائرزکیساتھ میچ جیت کرآیا، میں نے نیوٹرل امپائرکیلئے آواز اٹھائی،بہترین انتخابی اصلاحات کے خواہاں ہیں، انتخابی اصلاحات پرکام کیاہے،پاکستان میں الیکٹرونک ووٹنگ لارہے ہیں،الیکشن میں ماڈرن ٹیکنالوجی کااستعمال ہوگا،اوورسیزپاکستانیوں کیلئے بھی سسٹم لارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سب کہتے ہیں سینیٹ الیکشن میں پیسہ خرچ ہوتا ہے،ہم چاہتے ہیں ایسا انتخابی عمل ہوکہ دونوں جانب امیدوار نتائج تسلیم کرے، چاہتاہوں جو بھی ہارے وہ شکست تسلیم کرے۔
وزیراعظم نے کہاکہ چھوٹے صوبوں میں پیسہ چلتا ہے،ایم بی ایز کو پیسہ دیکر ووٹ خریدے جاتے ہیں،چاہتے ہیں سینیٹ میں یہ چیزیں ختم ہوں،سب کہتے ہیں سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے،ہم نے خیبرپختونخوا میں 20 ایم پی ایز کو پارٹی سے نکالاتھا،جوجماعتیں کہتی ہیں سینیٹ میں پیسہ چلتا ہے وہ اس ترمیم کو پاس کرائیں ،سینیٹ الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے کیلئے ترمیم لائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں