39

چین کی ارونا چل پردیش صوبہ میں گاؤں بسانے کی امریکی ماہرین کی رپورٹ، چین کا مؤقف بھی آ گیا چین نے ”اپنے علاقہ” میں تمام ترقیاتی اور تعمیراتی کام کیا، جو کہ نارمل بات ہے ۔ چینی وزارت خارجہ

چین کی ارونا چل پردیش صوبہ میں گاؤں بسانے کی امریکی ماہرین کی رپورٹ، چین کا مؤقف بھی آ گیا
چین نے ”اپنے علاقہ” میں تمام ترقیاتی اور تعمیراتی کام کیا، جو کہ نارمل بات ہے ۔ چینی وزارت خارجہ

چین کی جانب سے ارونا چل پردیش صوبہ میں گاؤں بسانے کی خبریں سامنے آئیں اور امریکی ماہرین کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ چین آہستہ آہستہ بھارتی زمین ہڑپ کر رہا ہے۔ تاہم اس رپورٹ پر چین کی جانب سے بھی رد عمل سامنے آ گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ چین کی ”اپنے علاقہ” میں ترقیاتی اور تعمیراتی کام ”نارمل” ہیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زنگن ریجن (جنوبی تبت) پر چین کی پوزیشن غیر متزلزل اور واضح ہے۔ ہم نے اورناچل پردیش کو کبھی بھی بھارت کا حصہ تسلیم نہیں کیا۔ اس پر سامنے آنے والی رپورٹ انتہائی قابل مذمت ہے کیونکہ تمام تعمیراتی سرگرمیاں ہمارے اپنے علاقہ میں کی گئی ہیں۔
خیال رہے کہ تین روز قبل ارونا چل پردیش سے متعلق امریکی ماہرین کی ایک رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں امریکی ماہرین نے اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ چین آہستہ آہستہ بھارتی سرزمین ہڑپ کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سیٹلائٹ کے ذریعے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ چین کی پیپلز لبریشن آرمی نے کمانڈو ایکشن کے ذریعے ارونا چل پردیش صوبہ میں گُھس کر ایک بڑا گاؤں بسا لیا جس میں 101 گھروں کو تعمیر کر کے اپنے لوگوں کو اس میں ٹھہرا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے ساڑھے چار کلومیٹر بھارت کی سرزمین میں گُھس کر تعمیرات کا سلسلہ شروع کیا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ صوبہ ارونا چل پردیش اس کی ملکیت ہے۔
اسی لیے پیپلزلبریشن آرمی کے جوان روزانہ کی بنیاد پر مزید علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں۔ بھارتی فورسز بے بس ہیں۔ امریکی ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ چین نے تمام سرحدی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بھارت کے ساتھ ایک نیا فرنٹ کھول دیا ہے۔ تاہم اب اس معاملے پر چینی وزارت خارجہ کا رد عمل آ گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں