42

ڈاکٹر اظہر اور بیٹی کی موت کا معاملہ ، بیوہ کا بیان سامنے آ گیا

ڈاکٹر اظہر اور بیٹی کی موت کا معاملہ ، بیوہ کا بیان سامنے آ گیا

ملتان میں ماہر امراض دماغی، نفسیاتی اور منشیات ڈاکٹر اظہر حسین نے گھریلو تنازعے پر بیٹی کو قتل کرکے خود کشی کرلی۔ملتان کی جسٹس حمید کالونی میں ڈاکٹر کی جانب سے بیٹی کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرنے کا مقدمہ ڈاکٹر اظہر حسین کی بیوہ بشری بی بی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔خاتون کے بیان کے مطابق ڈاکٹر اظہر حسین کورونا بیماری کی وجہ سے کئی ماہ سے ڈپریشن کا شکار تھے۔
مقتولہ بیٹی علیزہ دوسرے کمرے میں ایف سی پی ایس ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی کہ اچانک گولی چلنے آواز آئی اور بیٹی کو خون میں لت پت دیکھا تو اس کو نشتر اسپتال کے گئے لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی۔خاتون نے اپنے بیان میں بتایا کہ بیٹی کو قتل کرنے کے بعد ڈاکٹر اظہر حسین نے خود کو کمرے میں بند کر لیا اور پھر خود کو بھی گولی مار کر خودکشی کر لی۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر اظہر نے پہلے اپنی بیٹی کو گولی ماری، ایمبولینس میں بیٹی ڈاکٹر علیزہ کی موت کی اطلاع ملی تو صدمے سے خود کو بھی گولی مارکر زندگی ختم کرلی، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اورتفتیش شروع کردی ہے۔

قریبی ذرائع کے مطابق ملتان کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر اظہر حسین اور ان کی بیٹی ڈاکٹر علیزہ کے درمیان فیملی جائیداد کے معاملے پر تنازع چل رہا تھا، جائیداد کے تنازعے نے دونوں باپ بیٹی کی زندگی لے لی۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ڈاکٹر اظہر حسین نے طیش میں آکر گھر میں پہلے اپنی بیٹی کو گولی ماری، لیکن جب ایمبولینس میں ان کو بیٹی کی موت کی اطلاع ملی تو ڈاکٹر اظہر نے شدید صدمے میں خود کو بھی گولی مار کر اپنی زندگی ختم کرلی۔
واقعہ کی اطلاع پر ملنے پر پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے اور ڈاکٹر اظہر حسین اور ڈاکٹر علیزہ کی لاشیں پوسٹمارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کردی ہیں، اسی طرح واقعے کی نوعیت جاننے کیلئے قانونی کاروائی بھی شروع کردی ہے۔ واقعے کے حقائق جاننے کیلئے ڈاکٹر علیزہ کے شوہر عدنان اور دونوں کے رشتہ داروں سے تفتیش بھی کی جارہی ہے۔ پولیس نے واقعہ سے متعلق عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں