19

ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن ہوگا، پی ٹی آئی کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ ڈسکہ میں دوبارہ الیکشن تو ہوگا لیکن طے یہ کرنا ہے کہ الیکشن کچھ پولنگ اسٹیشنز پر ہو یا پورے حلقے میں ہونا ہے۔

سپریم کورٹ نے این اے 75میں دوبارہ الیکشن کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن کا دوبارہ الیکشن کرانے کافیصلہ معطل کرنےکی استدعا مسترد کردی ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال الیکشن تو ہوگا لیکن ہم معاملے کو سنیں گے۔ الیکشن کمیشن کا احترام کرتے ہیں، یہ ایک آئینی ادارہ ہے۔ ہم اس طرح مقدمات ڈسمس نہیں کرتے۔ الیکشن کمیشن نے اپنا جواب جمع کرایا ہے وہ دیکھ لیتے ہیں۔

انہوں نے کہا الیکشن کمیشن کے احکامات یونہی معطل نہیں کریں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ معاملے کی سماعت کی ہے۔ الیکشن کمیشن، مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف نے اپنا اپنا تحریری جواب عدالت میں جمع کرا دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں کہا کہ ضلعی انتظامیہ امن وامان کی صورتحال کنٹرول کرنے میں ناکام رہی اور ضلعی انتظامیہ کی ناکامی کی وجہ سے انتخابات کے دن سنگین تشدد کے واقعات دیکھنے میں آئے۔

جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے امن وامان کے پیش نظر ڈسکہ میں تمام تقرریوں اور تبادلوں پرپابندی عائد کر رکھی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کی امیدوار نوشین افتخار نے اپنے جواب میں کہا کہ 20 پریذائیڈنگ افسران کا غائب ہونا تشویشناک عمل ہے، حلقے کے عوام کو حق رائے دہی سے روکا گیا لہٰذا عوام کو ووٹ ڈالنے سے روکنا غیر جمہوری عمل ہے۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہےکہ الیکشن کمیشن کا حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ درست ہے۔

تحریک انصاف کے امیدوارعلی اسجد ملہی نے تحریری جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن کا امن وامان کی صورتحال خراب ہونے کا مؤقف درست نہیں، پولنگ اسٹیشنز پربدمزگی کاذمہ دارانتظامیہ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو ٹھہرانا غلط ہے۔

اسجد ملہی نے اپنے جواب میں کہا ہےکہ الیکشن کمیشن نے بغیر انکوائری کیے اپنا فیصلہ سنایا جب کہ مقامی افراد کو ووٹ نہ ڈالنے دینے کا مؤقف بھی بالکل غلط ہے، جن 54 پولنگ اسٹیشنز سے شکایات موصول ہوئیں وہاں کوئی امن وامان کا مسئلہ نہیں ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں