33

ڈونلڈ ٹرمپ نے جاتے جاتے اسرائیلی جاسوس کی سزا معاف کردی مگر عافیہ صدیقی کی سزا معاف نہیں کی عمران خان کو چاہیے کہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے جوبائیڈن سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات کرے،حامد میر

ڈونلڈ ٹرمپ نے جاتے جاتے اسرائیلی جاسوس کی سزا معاف کردی مگر عافیہ صدیقی کی سزا معاف نہیں کی
عمران خان کو چاہیے کہ اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے جوبائیڈن سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات کرے،حامد میر

اب تو برس گننا بھی چھوڑ دینا چاہیے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی سے متعلق ہر حکومت نے محض دعوے ہی کیے ہیں۔دہائیاں بیت چلیں مگر عافیہ صدیقی کی رہائی کی شمع روشن ہوتی نظر نہیں آ رہی۔مشرف دور میں امریکہ کی قید میں جانے والی دختر پاکستان آج پاکستان میں تین سیاسی جماعتوں کے ادوار ختم ہونے کے باوجود بھی رہا نہیں ہو سکی۔
ہر آنے والے سیاستدان نے یہی دعویٰ کیا کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لائیں گے مگر کوئی بھی سیاستدان اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکا۔اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے بھی اپوزیشن کی سیاست کرتے وقت ببانگ دہل کہا تھا کہ وہ عافیہ صدیقی کو وطن واپس لائیں گے مگر وہ بھی اپنا وعدہ وفا نہیں کرسکے۔اسی حوالے سے سینئر صحافی حامد میر نے اپنے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اب تو امریکہ حکومت بھی تبدیل ہو گئی ہے اورنئے امریکی صدر جوبائیڈن ٹرمپ کی مخالف پالیسی رکھتے ہیں لہٰذا اسے اپروچ کرتے ہوئے عمران خان صاحب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کر سکتے ہیں۔
حامد میر نے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جاتے جاتے ایک اسرائیلی جاسوس کی سزا معاف کر دی ایک ایساجاسوس جو کہ سنگین جرائم میں ملوث تھااور ایک عرصے سے امریکی جیل میں قید تھا اسے بھی اسرائیل کے حوالے کر دیا گیا جبکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا معاف نہیں کی گئی۔حامد میر نے وزیراعظم عمران خان کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے پروگرام میں بیٹھ کر عمران خان صاحب بار بار کہا کرتے تھے کہ جب انہیں اقتدار ملے گا تو وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو واپس لائیں گے مگر وہ بھی یہ کام نہیں خر سکے مگر ان کے پاس موقعہ ہے کہ امریکی انتظامیہ تبدیل ہو چکی ہے اور وہ جوبائیڈن کے ساتھ بات چیت کر کے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو وطن واپس لا سکتے ہیں اور انہیں لانا بھی چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں