165

کاشانہ میں کم عمرلڑکیوں کو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں اور صوبائی وزیر کو خوش کرنے کیلیے استعمال کیا جاتا ہے

لاہور: ہو سکتا ہے اس بیان کے بعد مجھے غائب کر دیا جائے، میری آواز آگے تک پہنچائی جائے۔کاشانہ سنٹر کی انچارج نے تہلکہ خیز انکشافات کر دئیے. کاشانہ لاہور جہاں بے سہارا خواتین کو سہارا دیا جاتا ہے، وہاں کی انچارج نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ یتیم بچیوں کیلئے قائم کئے گئے سرکاری ادارے سوشل ویلفیئر اینڈ بیت المال کی سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف نے اپنی برطرفی کی وجہ بتاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کاشانہ میں زیر پرورش کم عمر بچیوں کی شادیاں نہ کروانا میرا جرم بن گیا ۔

ان کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے ڈپارٹمنٹ کو ایک شکایت بھیجی تھی کہ مجھ پر یہاں کہ ائریکٹر جنرل افشاں کرن امتیازکی طرف سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کروانے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔جن میں 16 سے 18سال کی لڑکیاں شامل ہیں،کم عمر بچیوں کی شادی کا مقصد کچھ منظور نظر اعلیٰ حکام اور صوبائی وزیر کو نوازنا تھا۔

میری اس شکایت پر سی ایم آئی ٹی نے 5 اگست کو اپنی انکوائری کا آغاز کیا اور پہلے مرحلے میں ہی مجھے معطل کر دیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی افشاں کرن امتیاز کو عہدے سے ہٹا دیا ۔ افشاں لطیف کا کہنا ہے کہ دوران انکوائری سی ایم آئی ٹی نے ہتک آمیز رویہ اختیار کیا اور معاملے کو دبانے کیلئے پریشرائز کیا گیا۔ سی ایم آئی ٹی کی جانب سے مجھ پر دبائو ڈالا جانے لگا کہ اپنی شکایت واپس لوں ۔ ایسا نہ کرنے کے باعث ادارہ کا بجٹ بند کر دیا گیا، کاشانہ میں زیرپرورش بچیوں کو کھانے پینے، کپڑوں اور تعلیمی سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔
۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے ایسا نہ کرنے پر ادارے کا بجٹ بھی بند کر دیا گیا۔اور ساتھ ہی پورا عملہ بھی تبدیل کر دیا۔بچیوں کو کھانے پینے اور دیگر سہولیات سے محروم کر دیا گیا۔میں نے 25 نومبر کو چئیرمین وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم کو تحریری خط لکھا۔اور وارنگ دی کہ ان کو وارننگ دی کہ وہ کاشانہ میں جو بھی غیر قانونی کام کروانا چاہتے ہیں جو ان کے مفادات ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے ادارہ کا بجٹ بند کروایا ہوا ہے اور جن اعلیٰ حکام اور صوبائی وزیر کو نوازنے کیلئے ادارے میں بے جا مداخلت کر رہے ہیں لہٰذا اس غیر قانونی کام سے باز رہیں ایک صوبائی وزیر کو خوش کرنے کے لیے ادارے میں بے جا مداخلت کی جا رہی ہے۔

میں نے اس خط کی کاپی دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو بھیجی۔اگلے روز ہی مجھے عہدے سے ہٹا یا گیا جس کا مقصد تھا کہ جن غلط کاموں میں رکاوٹ بن رہی ہوں وہ جاری رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان اداروں میں بچیوں کو روٹی اور کپڑے کے نام پر استعمال کیا جاتا ہے۔اعلیٰ حکومت عہدیداروں کو خوش کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہاں پر وزیروں کی من مانیاں بھی کی جاتی ہیں۔ایک اور ویڈیو پیغام میں ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے کاشانہ کا داخلی دروازہ توڑ دیا ہے۔مجھے گرفتار کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے آج یہ لوگ پھر فتح حاصل کر رہے ہیں،ثبوتوں کو مٹا رہے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ میری آواز آگے تک پہنچائیں ہو سکتا ہے اس کے بعد میں کچھ نہ کہہ سکوں،مجھے نہیں معلوم اب میرے ساتھ کیا ہو گا۔

جب کہ وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ کاشانہ میں خاتون کو ٹرانسفر کیا گیا تھا تاہم وہ چارج نہیں چھوڑنا چاہتی تھی۔کاشانہ میں ٹرانسفر کو خاتون نے ذاتی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے۔سروس میں ٹرانسفر ہوتی رہتی ہے معاملے کو حل کرا لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں