33

کالعدم ٹی ٹی پی جلسے کو دہشتگردی کا نشانہ بناسکتی ہے، پنجاب پولیس دہشتگردی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں ہو رہا، پولیس نے ممکنہ دہشتگرد حملے سے مریم نواز، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمان دیگر رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے۔ پنجاب پولیس کا مراسلہ جاری

کالعدم ٹی ٹی پی جلسے کو دہشتگردی کا نشانہ بناسکتی ہے، پنجاب پولیس
دہشتگردی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں ہو رہا، پولیس نے ممکنہ دہشتگرد حملے سے مریم نواز، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمان دیگر رہنماؤں کو آگاہ کردیا ہے۔ پنجاب پولیس کا مراسلہ جاری

پنجاب پولیس نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی جلسے کو دہشتگردی کا نشانہ بناسکتی ہے، دہشتگردی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں ہورہا ، مراسلے کے ذریعے مریم نواز، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ کو آگاہ کردیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پنجاب پولیس نے پی ڈی ایم کے تمام لیڈران کو ممکنہ دہشتگرد کاروائی سے آگاہ کردیا ہے۔
پنجاب پولیس کی جانب سے پی ڈی ایم رہنماؤں جن میں مریم نواز، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق، خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ ودیگر شامل ہیں ان کو مراسلے کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان ، پی ڈی ایم کے جلسے اور قائدین کو دہشتگردی کا نشانہ بنا سکتی ہے۔
اس حوالے سے نیکٹا اور وزارت داخلہ تھریٹ الرٹ جاری کرچکی ہے۔

ریلیوں اور جلسوں میں دہشتگردی کے پیش نظر حفاظتی اقدامات پر عمل نہیں ہورہا ۔ دوسری جانب پنجاب حکومت نے مقدمات میں نامزد کارکنان کو آج شام تک حراست میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر قانون پنجاب راجا بشارت کی زیرصدارت اجلاس میں کورونا کی صورتحال اور پی ڈی ایم جلسے کے حوالے سے سکیورٹی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ این سی اوسی کی ہدایت کی روشنی میں پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہیں دی گئی۔
کورونا اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پی ڈی ایم کو جلسہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ نیکٹا اور دیگر اداروں کی جانب سے جاری الرٹ سے پی ڈی ایم قیادت کو آگاہ کردیا گیا۔ دہشتگردی کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی ہٹ دھرمی عوام کی جانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔ اپوزیشن تصادم چاہتی ہے حکومت یہ موقع فراہم نہیں کرے گی۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کےخلاف کارروائی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں