corona 127

کرونا کی نئی قسم کا پھیلاو، حکومت پاکستان نے برطانیہ سے آنے والوں پر سفری پابندی عائد کر دی

اسلام آباد : کرونا کی نئی قسم کا پھیلاو، حکومت پاکستان نے برطانیہ سے آنے والوں پر سفری پابندی عائد کر دی۔ تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں کرونا وائرس کی نئی اور خطرناک قسم کے پھیلاو کے بعد پاکستان نے بھی برطانیہ سے آنے والوں پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کرونا کی نئی اور خطرناک قسم کے پھیلاو کے بعد برطانیہ سے پاکستان آنے والے مسافروں پر لازم ہوگا کہ وہ سفر سے 72 گھنٹے قبل پی سی آر ٹیسٹ کروائیں اور پھر منفی رپورٹ اپنے ہمراہ لائیں۔
پاکستان آمد کے بعد مسافروں پر یہ بھی لازم ہوگا کہ وہ ایک ہفتہ قرنطینہ اختیار کریں۔ ایک ہفتے کے دوران برطانیہ سے پاکستان آنے والے تمام افراد کا آمد پر دوبارہ کرونا ٹیسٹ کروایا جائے گا۔
حکومت نے پابندی کا اطلاق آج رات 12 بجے سے اور اگلے ایک ہفتے کیلئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، باقاعدہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ برطانیہ سے آنے والی ٹرانزٹ پروازوں کے مسافروں کو پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

واضح رہے کہ سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس کی ایک اور قسم بھی موجود ہے۔ انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر کرس وائٹی نے دعویٰ کیا ہے کہ انگلینڈ میں تیزی سے پھیلنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم دریافت ہوئی ہے ، اپنے بیان میں چیف میڈیکل آفیسر کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں کرونا کی نئی قسم آئی ہے جو بہت تیزی سے پھیل سکتی ہے اور اس پر ہمیں تیزی سے کام کرنا ہوگا تاکہ یہ زیادہ اموات کا سبب نہ بن سکے ، اعداد و شمار کے مطابق یہ نئی قسم برطانیہ کے جنوب مشرق میں پھیل رہی ہے جبکہ ایڈوائزری گروپ نے بھی نئی قسم کے تیزی سے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کیا ہے ۔
اس صورتحال میں سفری پابندی سے متعلق پاکستان کے فیصلے سے قبل کئی یورپی ممالک اور کینیڈا نے بھی برطانیہ کے سفر پر پابندی عائد کردی ہے۔ کرونا وائرس کی نئی قسم دریافت ہونے کے بعد برطانوی حکومت نے بھی سخت اقدامات کیے ہیں۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہاکہ کرونا کی نئی قسم ستر فیصد تک دوسروں تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس صورتحال میں فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، آسٹریا، آئرلینڈ، بیلجیئم اور بلغاریہ نے برطانیہ سے فضائی، بحری اور بری راستوں سے تمام مسافروں کی آمد و رفت کو فی الحال روک دیا ہے۔ ان تمام اقدامات کے نتیجے میں خدشہ ہے کہ برطانیہ کے لیے یورپی یونین سے خوراک اور ادویات جیسی ضروری اشیا کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں