SHEHBAZ SHARIF 142

کروڑوں کی کرپشن ، شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کیخلاف 16 گواہان کی فہرست تیار

لاہور:قومی احتساب بیورو نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی بیٹی اور داماد سمیت دیگر ملزمان کے خلاف 16 گواہان کی فہرست تیار کر لی۔ اس حوالے سے نیب دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی بیٹی اور داماد کے خلاف گواہان میں صاف پانی کمپنی کے آفیشلز ، آڈیٹرز اور اکاؤنٹنٹ شامل ہیں اس کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی ایکسچینج آف پاکستان کے نمائندے ، بینکوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین اور نیب آفیشلز بھی گواہاں میں شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق صاف پانی کمپنی کے سابق مینجر خرم جاوید ، آڈیٹر حیدر قرار کے علاوہ نور زبیر ، محمد جاوید اقبال ، فیاض الدین ، معین راجپوت بھی شہباز شریف کی بیٹی اور داماد اور دیگر ملزمان کے خلاف گواہی دیں گے جب کہ ذوالفقار علی ، سکندر ہارون ، ذیشان نیازی اور بشیر احمد بھی گواہان کی فہرست میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو لاہور کی طرف سے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی بیٹی رابعہ عمران اور داماد کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا تھا ، نیب کی طرف سے دائر کیے گئے ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی صاحبزادی رابعہ اور داماد عمران علی سمیت دیگر پر 37 کروڑ 5 لاکھ 28 ہزار روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا الزام ہے جنہوں نے صاف پانی واٹر فلٹریشن پلانٹس کی مد میں 13 کروڑ سے زائد کی کرپشن کی ، جہاں سامان کی مہنگے داموں خریداری کے باعث 13 کروڑ 32 لاکھ روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا جب کہ سولر ورک کی مد میں قومی خزانے کو 8 کروڑ 16 لاکھ روپےکا نقصان پہنچایا گیا۔

دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کے کزن جاوید شفیع سمیت 6 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے گئے ، بینکنگ جرائم کورٹ پنجاب میں اتفاق شوگرمل اور کشمیر شوگرمل کیس کی سماعت ہوئی ، جہاں عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو ملزمان کو21 نومبر کوپیش کرنے کا حکم دے دیا ، بینک جرائم کورٹ پنجاب میں سمٹ بینک کی طرف سےاتفاق شوگر مل اور کشمیر شوگر مل کےنام پر کروڑوں روپےکا قرض واپس نہ کرنےپرمسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کےکزن جاوید شفیع ، طارق شفیع ، عمران شفیع ، زاہد شفیع ، شاہد شفیع اورعلی پرویز کےخلاف 2 الگ الگ استغاثےدائرکیےگئے جس میں عدالت نے جاوید شفیع اوردیگرکو فرد جرم کے لیےطلب کیا لیکن وہ پیش نہ ہوئے بلکہ ان کی طرف سے حاضری سے معافی کی درخواست دائر کی گئی جو عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرکے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو بھجوا دیئے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں