93

کورونا وائرس: عالمی معیشت کی بحالی میں کتنا وقت لگے گا؟

دنیا بھر میں جیسے جیسے مختلف ممالک اپنی اپنی معیشت کا پہہ دوبارہ چلانے کی کوشش کر رہے ہیں، ویسے ویسے لاک ڈاون میں نرمی ہر جگہ نظر آنے لگی ہے۔

آئی ایم ایف کا اندازہ ہے کہ آئندہ عالمی معیشت 3 فیصد تک سکڑ جائے گی جو کہ اس کی گذشتہ پیش گوئی کہ دنیا کی معیشت 3 فیصد بڑھے گی کہ بالکل برعکس ہے۔

دنیا 1930 کی دہائی کے گریٹ ڈپریشن کے بعد سب سے بڑے عالمی بحران کی تیاری کر رہی ہے۔ مگر یہ بحران کب تک چلے گا اور اس سے کیسے نکلا جائے گا؟بہت سے ممالک اقتصادی کساد بازاری یعنی ریسیشن کی تعریف دو مسلسل سہ ماہیوں میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں کمی قرار دیتے ہیں۔

امریکہ میں نیشنل بیورو آف اکانامک ریسرچ کے مطابق کساد بازاری ’معاشی سرگرمیوں میں واضح کمی جو کہ کئی ماہ تک جاری رہے اور جی ڈی پی میں نظر آنے کے ساتھ ساتھ حقیقی آمدنی، بےروزگاری، صنعتی پیداوار، اور پرچون کے شعبے میں بھی واضح‘ ہوتی ہے۔

آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق ہم کورونا وائرس کے بدترین معاشی اثرات سے ابھی یعنی 2020 کی دوسری سہ ماہی کے دوران گزر رہے ہیں۔ انھیں امید ہے کہ سال کے دوسرے حصے میں حالات بہتر ہوں گے اور کاروبار آہستہ آہستہ کھلنے لگیں گے۔

تاہم اگر لاک ڈاؤن جیسے اقدامات جاری رہے تو کاروبار ختم ہونے لگیں گے اور لوگ بےروزگار ہونے لگیں گے۔ یہ کساد بازاری دوگنا سنگین اور طویل ہو سکتی ہے اور اس سے نکلنا اور بھی زیادہ مشکل۔

تو ہم وی، یو، ڈبلیو، یا ایل شکل کی کساد بازاری میں جا سکتے ہیں۔ ان انگریزی حروف کے ذریعے ماہرینِ معاشیات کساد بازاری کی مختلف اقسام کو بیان کرتے ہیں۔ یہ حروف جی ڈی پی کے گراف کی شکل بیان کرتے ہیں۔وی شکل کی کساد بازاری کو ہم بہترین قرار دیتے ہیں۔ اس میں معیشت میں سست روی آتی ہے، جلدی سے اپنی نچلی ترین سطح تک پہنچتی ہے اور جلد ہی معیشت میں بہتری آنے لگتی ہے۔

کیتھولک یونیورسٹی آف چیلی کے پروفیسر ہوزے تساڈا کہتے ہیں کہ ’اس میں خیال یہ ہے کہ ہماری معیشت پہلے جیسی سطح کے قریب لوٹ آتی ہے اور کساد بازاری قدرے قلیل مدت کی ہوتی ہے چاہے وہ چند سہ ماہیوں کی ہو۔‘

’اگر ہم اس وبا کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ہم وی شکل کی کساد بازاری دیکھیں گے کیونکہ آپ لاک ڈاؤن ختم کرنا شروع کر دیں گے اور قومی پیداوار واپس بڑھنے لگے گی۔‘

نیویارک میں ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے چیف اکانومسٹ پال گروئنوالڈ کہتے ہیں کہ ’اگر سماجی دوری کے اقدامات جلد ختم کر دیے جاتے ہیں یا جلد ہی اس کی ویکسین یا علاج بن جاتا ہے تو ہم جلد اپنے راستے پر واپس آ جائیں گے۔‘

ایس اینڈ پی کی پیش گوئی کے مطابق 2020 کی دوسری سہ ماہی میں 9 فیصد تک معاشی سست روی ہوگی۔ اس سطح پر ان کے خیال میں اس کساد بازاری سے نکالنے میں کافی وقت لگے گا۔ایس اینڈ پی کے مطابق 2020 میں مجموعی طور پر 2.4 فیصد معاشی کمی دیکھی جائے گی اور اس کے بعد 2021 میں 5.9 فیصد اضافہ ہوگا۔

پال گروئنوالڈ کہتے ہیں کہ ’ہم جو اب دیکھ رہے ہیں وہ شاید یو کی شکل یا ایک چوڑا یو ہے جس میں ہم بحران کے اثرات سے تو نکل آئیں گے مگر اس میں وقت لگے گا۔‘

نیویارک میں موڈی انویسٹرز سروسز کی اسوسی ایٹ مینجنگ ڈائریکٹر الینا دوگر اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں۔ ان کے اندازے کے مطابق کورونا وائرس کے نشانات معیشت سے 2021 میں بھی نہیں ہٹیں گے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’جو معاشی سرگرمی اس سال کے پہلے نصف میں ہم نے کھو دی ہے وہ ہم دوسرے نصف میں پوری نہیں کر سکیں گے۔‘

تاہم وہ چین سے آنے والی خبروں کو مثبت انداز میں دیکھتی ہیں جہاں معیشت کی سست روی اور پھر بہتری باقی دنیا کے مقابلے میں ایک سہہ مائی پہلے شروع ہوئی ہے۔

’ہم نے چین میں لاک ڈاؤن میں نرمی دیکھی ہے۔ فیکٹریاں چلنے لگی ہیں۔ مختلف شعبوں میں اطلاعات ہیں کہ پیداواری صلاحیت 45 سے 70 فیصد تک لوٹ آئی ہے۔‘

دوسری جانب حکومتوں نے معیشتوں کو سہارا دینے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔

الینا دوگر کہتی ہیں کہ جب لاک ڈاؤن جیسے اقدامات ہٹیں گے اور سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوں گی تو سال کے دوسرے نصف میں کچھ حالات بہتر ہوں گے۔پال گروئنوالڈ کہتے ہیں مگر اس وقت کوئی ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے اور اس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا ایک اور سلسلے کا سامنا ہے۔

حکومتیں لاک ڈاؤن جیسے اقدامات ختم کر دیں اور معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ مگر کورونا وائرس کی دوسری لہر کی صورت میں یہ اقدامات واپس لگا دیے جائیں گے اور معیشت کو ایک اور دھچکا لگے گا۔

اس صورتحال میں معیشت میں ایک اور مرتبہ گراوٹ آ سکتی ہے جیسے ڈبلیو شکل کہا جاتا ہے۔

پروفیسر ہوزے تساڈا کہتے ہیں کہ ایسے میں حتمی طور پر بحران سے نکلا کچھ عرصے کے بعد ہی جا سکتا ہے جس کے دوران معیشت بہتر ہوتی ہے مگر پھر گرنے لگتی ہے۔‘

پال گروئنوالڈ کہتے ہیں کہ اگر ہم سماجی دوری جیسے اقدامات لگاتے اٹھاتے رہے تو معیشت کے واپس اپنی سطح تک پہنچنے میں قدرے زیادہ وقت لگے گا۔بہت سے لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا کورونا وائرس دنیا کی معاشی سرگرمی کی نئی سطح کا تعین کر دے گا؟

ایل شکل کی کساد بازاری میں معیشت تیزی سے گرنے کے بعد کچھ سنبھلتی ہے مگر اپنی پرانی سطح پر واپس نہیں جاتی اور ایک نچلی سطح پر لوٹ جاتی ہے۔

پروفیسر ہوزے تساڈا کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں یہ کساد بازاری نہیں بلکہ عالمی پیداوار میں مستقل تبدیلی ہوگی۔

ایس اینڈ پی کی تنبیہ ہے کہ عالمی پیداوار میں ناہموار انداز واپسی سے طویل مدتی معاشی نقصان ہو سکتا ہے خاص کر ایسی صورت میں اگر کوئی ویکسین یا علاج دریافت نہیں ہوتا۔

پال گروئنوالڈ کہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں پرانے نظام کو لوٹنا ناممکن ہوگا۔ ’وی یا یو شکل کے بجائے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم پیداوار کی پرانی سطح تک لوٹ سکیں گے یا نہیں۔ اور اس میں کتنا وقت لگے گا۔‘

اپنا تبصرہ بھیجیں