81

کورونا وائرس کا خاتمہ شاید کبھی ممکن نہ ہو، عالمی ادارۂ صحت کی تنبیہ

عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ ممکن ہے کہ کووڈ 19 کبھی بھی ختم نہ ہو۔

ادھر اقوامِ متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے رہا ہے اور اس کی وجہ کئی ممالک میں ذہنی امراض کے علاج پر عدم توجہ ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی حالات کے شعبے کے ڈائریکٹر مائیکل رائن نے کورونا کے بارے میں یہ خدشہ بات بدھ کو جنیوا میں ایک ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ظاہر کیا۔

انھوں نے کہا کہ ‘ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس ہماری کمیونٹی میں ایک اینڈیمک بن جائے اور ہو سکتا ہے کہ یہ وائرس کبھی ختم نہ ہو۔’

دنیا میں مئی کے وسط تک تین لاکھ کے قریب افراد کوورنا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 43 لاکھ سے زیادہ ہے۔عالمی ادارۂ صحت کا کیا کہنا ہے؟

ڈاکٹر رائن کا کہنا تھا کہ ‘ایچ آئی وی ختم نہیں ہوا ہے مگر ہم نے اس وائرس کا مقابلہ کرنا سیکھ لیا ہے۔’ ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں کوئی بھی یہ پیشنگوئی نہیں کر سکتا کہ کووڈ-19 کی بیماری کا خاتمہ کب ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ویکسین کے بغیر لوگوں میں اس وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت درکار سطح تک آنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔دنیا بھر میں کوورنا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی 100 سے زیادہ کوششتیں جاری ہیں مگر ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ کبھی نہ بن سکے گی۔ مائیکل رائن کا کہنا تھا کہ اگر ویکسین بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کے لیے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب بھی دنیا میں خسرہ جیسی کئی بیماریاں ہیں جن کی ویکسین موجود ہے مگر ان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکا۔اقوامِ متحدہ نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں اور یا اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں اور طالب علموں تک، سب لوگوں کے لیے ذہنی دباؤ اور کوفت کا باعث ہے۔

جمعرات کو جاری ہونے والے ایک پالیسی بیان میں اقوامِ متحدہ نے دنیا کے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اپنے وبا سے نمٹنے کے منصوبوں میں ذہنی صحت کے علاج اور عوام کے لیے نفسیاتی امداد فراہم کرنے کے طریقے بھی شامل کریں۔

اچھی ذہنی صحت ایک پھلتے پھولتے معاشرے کے لیے ضروری ہے اور اقوامِ متحدہ کے مطابق ان اقدامات کے بغیر وبا کے ساتھ ساتھ دنیا میں ذہنی صحت کا بحران بھی جنم لے سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں