54

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن: وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومتیں ایک صفحے پر کیوں نہیں

ایک جانب جہاں عالمی رہنما اپنے اپنے ممالک میں کورونا وائرس کی روک تھام اور اس کے اثرات کو محدود کرنے کے لیے لاک ڈاؤن اور اس جیسے دیگر انتہائی اقدامات کو سخت سے سخت تر کرنے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں وہیں چند رہنما ایسے ہیں جو لاک ڈاؤن جیسے اقدام کی بظاہر مسلسل نفی میں مصروف ہیں۔

برازیل کے صدر جائیر بولزونارو اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان ایسے ہی عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں۔

پاکستان کی طرح برازیل میں بھی تعلیمی ادارے، عوامی مقامات، کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم کی طرح برازیل کے صدر مختلف توجیہات، جن میں سرِفہرست معیشت ہے، پیش کرتے ہوئے موجودہ حالات میں لاک ڈاؤن کی کھلے عام مخالفت کر رہے ہیں، اور یہی وہ وجہ ہے کہ برازیل کے صدر کو لاطینی امریکہ میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برازیل میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے زائد ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے۔پیر کی شب قوم سے اپنے خطاب میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر ملک میں لاک ڈاؤن کی مخالفت کرتے ہوئے دو عناصر یعنی ’ایمان‘ اور ’نوجوانوں‘ کی مدد سے کورونا کے خلاف لڑائی جاری رکھنے پر زور دیا۔

انھوں نے کہا ’پاکستان کی 25 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے جبکہ 20 فیصد وہ ہیں جو خط غربت کے آس پاس ہیں۔ یہاں ہم آٹھ، نو کروڑ لوگوں کی بات کر رہے ہیں اور اگر ہم لاک ڈاؤن کرتے ہیں اور دوسری جانب اتنی بڑی آبادی کا دھیان نہیں رکھ سکتے تو ایسا لاک ڈاؤن کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک ایک گھر میں آٹھ، آٹھ اور نو، نو افراد کا خاندان بستا ہے اور ایسی صورتحال میں لاک ڈاؤن کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے زمینی حقائق مدِنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنا ہوں گے اور ’اگر پاکستان کے حالات بھی چین کے صوبے ووہان جیسے ہوتے تو میں پورے ملک میں شہروں کو مکمل طور پر بند کر دیتا۔‘

کیا وزیر اعظم اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومتیں ایک صفحے پر نہیں؟
وزیر اعظم لاک ڈاؤن کی مخالفت کرنے کا سلسلہ ایسے موقع پر جاری رکھے ہوئے ہیں جب لگ بھگ پورے ملک میں، بشمول وہ صوبے جہاں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے، لاک ڈاؤن کا نفاذ ہو چکا ہے اور اب اس کے دورانیے میں اضافے کی بات چیت چل رہی ہے۔

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے وزرائے صحت لاک ڈاؤن کی افادیت پر بات چیت کرتے نظر آئے۔

گذشتہ شب نجی ٹیلی ویژن چینل جیو کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کی وزیر صحت یاسمین راشد کا کہنا تھا ’میرا خیال ہے کہ لاک ڈاؤن کا ہمیں (پنجاب) فائدہ ضرور ہوا ہے کیونکہ (اس کے ذریعے) ہم کیسز کو کم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔‘

پروگرام کے میزبان کی جانب سے ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پنجاب میں لاک ڈاؤن کی مدت میں مزید توسیع کی جائے گی یا کچھ سیکٹرز کو بتدریج کھولنے کا عمل شروع کیا جائے؟

اس پر وزیر صحت کا کہنا تھا کہ ’آئندہ ایک ہفتے میں ہمارے پاس جو سائنسی تجزیے سامنے آئیں گے اس کی روشنی میں دیکھا جائے گا۔ ابھی کچھ کہنا بہت مشکل ہے۔ 15 اپریل تک صورتحال بہت حد تک واضح ہو جائے گی کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں اور آئندہ کے اقدمات اسی کی روشنی میں لیے جائیں گے۔‘

اسی طرح سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے منگل کی صبح چار سے پانچ ٹوئیٹس کی ہیں جن میں صوبے کے مختلف شہروں اور دیہاتوں کی تصاویر شیئر کی گئی ہیں۔

ان تصاویر میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ یہاں تمام سٹرکیں اور آبادیاں سنسان نظر آ رہی ہیں۔ صوبائی وزیر صحت کی جانب سے عوام کے گھروں سے باہر نہ نکلنے اور کامیاب لاک ڈاؤن پر شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعریف کی گئی ہے۔مودی کے ’من کی بات‘ اور عمران خان کا دعویٰ
اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مودی حکومت انڈیا میں ’بغیر سوچے سمجھے‘ لاک ڈاؤن کرنے پر پشیمان ہے اور وزیراعظم مودی نے اس پر عوام سے ’معافی‘ مانگی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا ’ہمارے ہمسایہ ملک نے چند روز قبل فیصلہ کیا کہ وہ پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیں گے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ان کے وزیر اعظم نے (ایسا کرنے پر) پوری قوم سے معافی مانگی ہے اور معافی یہ مانگی ہے کہ ہم نے سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔‘

عمران خان کے خیال میں اب انڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ ’اگر وہ لاک ڈاؤن کو اب ختم کرتے ہیں تو کورونا وائرس پھیل جائے گا اور اگر وہ اس کو جاری رکھتے ہیں تو خدشتہ یہ ہے کہ لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔۔۔۔ تو اس لیے میں آج آپ کو کہتا ہوں کہ یہ جنگ ہم نے حکمت سے لڑنی ہے۔‘

اتوار کے روز انڈین وزیراعظم کی جانب سے قوم سے کیے گئے خطاب میں انہوں انڈین شہریوں سے معافی تو مانگی تھی لیکن اس کی وجہ مختلف تھی۔

وزیر اعظم مودی نے کہا تھا ’میں ان سخت اقدامات کے لیے معذرت خواہ ہوں جن کی وجہ سے آپ (انڈین عوام) کی زندگیوں میں، خاص کر غریب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔‘

’میں جانتا ہوں کہ آپ میں سے کچھ لوگ مجھ سے ناراض ہوں گے لیکن اس جنگ کو جیتنے کے لیے ان سخت اقدامات کی ضرورت تھی۔‘

’میں آپ کی دقتیں سمجھتا ہوں، آپ کی پریشانی بھی سمجھتا ہوں لیکن بھارت جیسے 130 کروڑ کی آبادی والے ملک کو کورونا کے خلاف لڑائی کے لیے یہ قدم اٹھائے بنا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ زندگی اور موت کی لڑائی ہے اور اس لڑائی میں ہمیں جیتنا ہے۔ یہ سخت قدم اٹھانا بہت مشکل تھا، کسی کا دل نہیں کرتا ایسے اقدامات کرنے کو لیکن دنیا کی حالت دیکھنے کے بعد لگتا ہے کہ یہی ایک راستہ بچا ہے کیونکہ آپ کو اور آپ کے خاندان کو محفوظ رکھنا ہے۔ آپ کی مشکلات کے لیے میں ایک مرتبہ پھر معافی مانگتا ہوں۔‘

وزیر اعظم کی تقریر پر سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر صارفین کی جانب سے وزی اعظم کے خطاب کے بعد آرا دینے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور ٹوئٹر پر یہ ٹاپ ٹرینڈ بھی رہا ہے۔

محسن حجازی نامی صارف نے لکھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کئی ہفتوں تک عالمی وبا کی نفی کی مگر اب امریکی ہسپتالوں کے باہر میتوں کو لے جانے والے ٹرک کھڑے ہیں۔

عاطف توقیر نامی صارف نے لکھا ’حضور لعنت بھیجیں لاک ڈاؤن پر، بتایے کرنا کیا ہے؟ کیا طے کیا ہے؟ لاک ڈاؤن کے نقصانات آپ پچھلی تین تقریروں میں بتا چکے ہیں۔ اس تقریر میں آپ نے بتانا تھا کہ آپ کی حکمت عملی کیا ہے۔ اب کل ملا کے بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن نہیں کرنا مگر ٹائیگرز نے لاک ڈاؤن والے علاقوں میں جانا ہے۔‘

تاہم سلمان نامی صارف کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم اس معاملے کو ہرگز ڈاؤن پلے نہیں کر رہے ہیں، پاکستان اپنے جیسے دیگر بہت سے ممالک سے بہتر اقدامات کر رہا ہے۔

وہ ممالک جہاں لاک ڈاؤن نہیں ہے؟
کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین اس وقت 178 ممالک میں موجود ہیں۔ ان 178 ممالک میں سے بیشتر ممالک پہلے ہی لاک ڈاؤن یا اسی نوعیت کی سخت شہری پابندیاں عائد کر چکے ہیں تاہم گنے چنے ملک ایسے بھی ہیں جہاں حکومتیں عوام کو نارمل زندگی گزارنے کی تلقین کر رہی ہیں۔

یورپ اب کورونا وائرس کی عالمی وبا کا مرکز بن چکا ہے لیکن اسی براعظم میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں حکام عوام کو اپنے روز مرہ کی زندگی کے معمولات کو تبدیل نہ کرنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔

بیلا روس کی سرحدیں کھلی ہیں، لوگ اپنے کاموں پر جا رہے ہیں۔ بیلاروس کے صدر الیگزیندر لوکاشنکو کہتے ہیں کہ ملک کو کورونا وائرس کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کوئی احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے۔

ملک کے دارالحکومت منسک میں چین کے سفیر کے ساتھ ایک ملاقات میں انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ دہشت زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کہا ہے کہ ’واقعات ہوتے رہتے ہیں۔‘

بیلا روس نے سنیما ہال اور تھیٹر بند نہیں کیے ہیں اور اجتماعات پر پابندی بھی نہیں لگائی۔ دنیا بھر میں یہ واحد ملک بچا ہے جس نے اپنے فٹبال مقابلے منسوخ نہیں کیے ہیں۔ اب تک بیلاروس میں کورونا وائرس کے 152 مریض سامنے آئے ہیں۔

بیلا روس کے صدر کے ان بیانات پر انھیں کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

اسی طرح یورپ کے ایک اور ملک سوئیڈن میں معمولات زندگی رواں دواں ہیں۔ سوئیڈن میں چار ہزار سے زائد متاثرین ہیں جبکہ یہاں وائرس کے باعث 146 ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں مگر سوئیڈن میں تعلیمی ادارے، کلب، ریستوران اور دیگر تمام تفریحی مقامات کھلے ہیں۔

سوئیڈن کے وزیر اعظم نے حال ہی میں کہا ہے دیگر یورپی ممالک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’انفرادی سطح پر ہم میں سے ہر ایک کو ذمہ داری لینی ہو گی۔ ہم قانون سازی کر کے ہر چیز پر پابندی عائد نہیں کر سکتے۔‘

اسی طرح برازیل میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے زائد اور ہلاکتوں کی تعداد 165 ہے جبکہ یہاں کے صدر بھی پابندیاں عائد کرنے یا لاک ڈاؤن کا نفاذ کرنے کے سخت مخالف ہیں جس کی وجہ سے انھیں اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں