49

کورونا وائرس کے 36 ہزار 801 مصدقہ کیسز، 779 افراد جاں بحق

: ملک بھر میں کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 36 ہزار 730 ہوگئی ہے جب کہ جاں بحق افراد کی تعداد 779 تک جاپہنچی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 13 ہزار 51 ٹیسٹ کیے گئے جس کے بعد کورونا کے مجموعی طور پر 3 لاکھ 30 ہزار 750 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 1500 سے زائد نئے کیس سامنے آئے جس کے بعد پاکستان میں کورونا کے مصدقہ کیسزکی تعداد 36 ہزار 730 ہوگئی۔ ان میں سے 9 ہزار 695 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 25 ہزار 323 ہےاعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں 13 ہزار 561، سندھ میں 14 ہزار 99، خیبر پختونخوا میں 5 ہزار 423، بلوچستان میں 2 ہزار 310، اسلام آباد میں 822، گلگت بلتستان میں 482 جب کہ آزاد جموں کشمیر میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 104 ہوگئی ہے۔پاکستان میں 24 گھنٹے کے دوران کورونا سے 33 اموات ہوئیں، جس کے بعد ملک میں ہونے والی اموات کی تعداد 779 ہوگئی ہے جب کہ پاکستان میں کورونا کے300 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔وزیر خزانہ بلوچستان ظہور بلیید نے اپنی ٹوئٹ میں اپنے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کی ہے، انہوں نے کہا کہ میرا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثب آیا ہے، مجھ میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں لیکن ڈاکٹروں کی ہدایت پر خود کو قرنطینہ کر لیا ہے۔ صحت یابی کےلیے دعا کرنے والوں کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکر بیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پر کوئی اثر نہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اور ہر ایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اور وہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں