58

کورونا وائرس: ’ہمیں یہ نظر نہیں آتا، مگر ہم سب خوفزدہ ہیں

جب اس ماہ کے شروع میں 50 سالہ سعادت خان سعودی عرب سے عمرہ کر کے پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے شہر مردان کے نواح میں اپنے گاؤں واپس آئے تو ان کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔

ان کے بیٹے حق نواز کے مطابق اس دعوت میں تقریباً 600 افراد نے شرکت کی۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ‘ہم نے چاول، گوشت اور مرغی کا سالن بنایا تھا اور پورا گاؤں انھیں مبارکباد دینے دعوت میں آیا تھا۔ پاکستان میں یہ روایت ہے کہ جب بھی کوئی ایسا مذہبی فریضہ ادا کرتا ہے تو دعوت دی جاتی ہے اور اس کی خوشی منائی جاتی ہے۔تاہم کچھ ہی دن بعد سعادت خان ملک میں کورونا وائرس سے مرنے والے پہلے شخص بن گئے اور ان کے پورے مقامی ضلع کو لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔

علاقے میں اب تک 46 افراد کا وائرس ٹیسٹ کیا گیا ہے ،جن میں سے 39 کے مثبت ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب سے آنے والے ان کے دو دوستوں میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

سعادت خان کی موت پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں کورونا انفیکشن سے لڑنے کے چیلنجوں کو نمایاں کرتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں خاندان اکٹھے رہتے ہیں اور جہاں صحت عامہ کا نظام پہلے ہی مسائل سے دوچار ہے۔

کورونا وائرس کے پیش نظر ایک ماہر صحت نے خبردار کیا کہ اگر مناسب روک تھام اور احتیاط نہ کی گئی تو ملک ‘تباہی’ کی طرف گامزن ہے۔

پاکستان میں 27 مارچ تک 1300 سے زائد کورونا وائرس متاثرین اور نو اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

ان متاثرین میں بڑی تعداد ان زائرین کی ہے جو ہمسایہ ملک ایران سے واپس آئے تھے۔ ایران کورونا وائرس کے باعث خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا ہے۔تاہم ملک میں اب یہ خدشات پائے جا رہے ہیں کہ یہ وائرس کیسے پھیل رہا ہے۔

لاہور میں یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان میں ‘اس وائرس کی مقامی منتقلی’ اب ان کی بنیادی تشویش ہے۔

ڈاکٹر اکرم نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک کی طرح ملک میں کورونا متاثرین کی اصل تعداد، جانچ کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ کی جانے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ اب تک، تقریبًا 6000 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں، جبکہ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے زیادہ ہے۔

کراچی شہر پاکستان کا تجارتی مرکز ہے اور یہاں کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا کے مریضوں میں صوبہ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی بھی شامل ہیں۔

آئسولیشن کے دوران بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کیسے اس انفیکشن میں مبتلا ہوگئے اور ان میں کوئی علامات بھی نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ حکام کو علم تھا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ کورونا متاثرین کے ریکارڈ کیے جانے والے اعداد و شمار زمین حقائق کی ‘عکاسی’ کرتے ہوں اور اسی وجہ سے حکومت سندھ نے اس ہفتے کے آغاز میں ایک سخت لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔

گھر سے باہر تمام غیر ضروری سفر پر پابندی عائد کردی گئی ہے، جبکہ صرف کھانے پینے اور میڈیکل سٹور کو ہی کھلا رہنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح کے اقدامات اب ملک بھر میں بھی کیے گئے ہیں۔

تاہم وزیر اعظم عمران خان مقامی صوبائی حکومتوں کے ساتھ متفق دکھائی نہیں دیے۔ انھوں نے پہلے کہا تھا کہ پاکستان ‘لاک ڈاؤن’ کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس سے کم آمدنی والے افراد کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔

لیکن جب صوبائی حکومتوں نے آگے بڑھ کر ‘لاک ڈاؤن’ کے اقدامات متعارف کروائے تو عمران خان نے وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ انھوں نے صرف ‘کرفیو نافذ’ کرنے کی بات کی مخالفت کی ہے۔

جبکہ معاشرے میں موجود دیہاڑی دار اور غریب ترین لوگوں کی حفاظت کے لیے چند اقدامات بھی پیش کیے۔

دیگر مسلم ممالک کے برعکس ان کی حکومت نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی کا حکم نہیں دیا ہے۔

پروفیسر اکرم کے مطابق پاکستان میں احتیاطی اقدامات کو نافذ کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ ‘علاج معالجہ کوئی حل نہیں ہے۔’

انھوں نے کہا کہ جس طرح اٹلی جیسے امیر ملک کو صحت عامہ کے اچھے نظام کے باوجود اس وباء سے نمٹنے کے لیے جدوجہد کرنی پڑی ہے، پاکستان میں صحت کی زیادہ ‘بنیادی’ سہولیات تو بہت جلد کم پڑ جائیں گی۔

ملک میں صحت کے شعبے سے منسلک افراد، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کو درپیش مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں میں سے ایک نوجوان ڈاکٹر بھی تھے۔

26 سالہ ڈاکٹر اسامہ ریاض شمالی گلگت بلتستان میں ایران سے واپس آنے والے زائرین کی سکریننگ کر رہے تھے جب اس بیماری میں مبتلا ہوگئے اور ان کی موت ہوگئی۔

ڈاکٹروں اور پیرا میڈکس نے کورونا وائرس کے خلاف لڑائی میں پہلی صف میں لڑنے والے افراد یعنی ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹ اور آلات فراہم نہ کرنے پر حکومت پر تنقید کی ہے۔

ڈاکٹر ریاض کے ساتھیوں میں سے ایک نے بی بی سی کو بتایا کہ اب انھیں مکمل حفاظتی لباس مہیا کر دیئے گئے ہیں، لیکن انھیں اس بات کی فکر ہے کہ کئی دوسرے ڈاکٹروں کے پاس یہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے، لیکن حفاظتی سامان کے بغیر کام کرنا خود کشی ہے۔’

حکام کا کہنا ہے کہ وہ صحت عامہ کے کارکنوں، ڈاکٹروں، پیرا میڈکس کو دستیاب وسائل کو بہتر بنانے کی فوری کوشش کر رہے ہیں۔

پاکستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے پہلے فرد سعادت خان کے گاؤں کے رہائشی اس بحران سے نمٹنے کے لیے کوشاں ہیں۔

سعادت خان کے ایک رشتہ دار نے، جن میں کوئی ظاہری علامات نہیں تھیں لیکن کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی، بی بی سی کو بتایا کہ وہ نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بیماری اتنی جلدی اتنی مہلک کیسے ہوسکتی ہے۔

‘ہم اسے دیکھ نہیں سکتے لیکن ہر کوئی خوفزدہ ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں