corona 155

کورونا ویکسین کی اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹنگ کا انکشاف

لاہور : پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا نے لاکھوں جانیں لیں ، جبکہ دنیا بھر میں کورونا کی دوسری لہر بھی شدت اختیار کر رہی ہے جس نے سب کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ البتہ دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا ویکسین کے ٹرائلز جاری ہیں جبکہ برطانیہ میں ویکسین لگانے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ ایک طرف جہاں کورونا سے متاثرہ افراد ویکسین کی دستیابی کا انتظار کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب کچھ بے حس افراد نے اس صورتحال سے بھی فائدہ اُٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کی اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹ سے منسلک گروہوں کے متحرک ہونے کا انکشاف ہوا۔ تفصیلات کے مطابق مختلف ممالک میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین کا استعمال شروع ہوتے ہی پاکستان کے مختلف حصوں میں ادویات اور ویکسین کی اسمگلنگ اور بلیک مارکیٹ سے منسلک گروہوں کے متحرک ہونے کا انکشاف ہوا ۔
بلیک مارکیٹ سے وابستہ افراد پاکستانیوں کو آن لائن ویکسین خریداری اور گھر تک ویکسین پہنچانے کی گارنٹی کا جھانسہ دے کر اُن سے اچھی خاصی رقم بٹور رہے ہیں۔ کورونا ویکسین اورادویات کی بلیک مارکیٹنگ، اسمگلنگ کے انسداد کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی حرکت میں آچکے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہریوں کو ایسے فراڈز سے باز اور محتاط رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ خیال رہے کہ ملک بھر میں کورونا کی دوسری لہر مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے باعث 71 اموات ہوئیں جبکہ کورونا کے 2729 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ کورونا کی دن بدن بگڑتی ہوئی صورتحال نے عوام کو مزید پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں