coke 301

کوکا کولا کا کورونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آ گیا

آسٹریا: یہ2020 ناقابل فراموش رہے گا کیونکہ اس میں بپا ہونے والا سب سے بڑا معرکہ کورونا وائرس کا ہے جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔کورونا وائرس سال کے آغاز میں ہی قدم جمانے شروع ہوااور اب کسی ملک میں دوسری تو کہیں تیسری لہر کی لپیٹ میں انسانوں کو لے رہا ہے۔تاہم کورونا ٹیسٹ کے حوالے سے بھی کئی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

کیونکہ آپ ایک جگہ سے ٹیسٹ کرائیں تو پازیٹو ہوتا ہہے اور اگر دوسری جگہ سے کرائیں تو نیگیٹو آ جاتا ہے۔انسانوں کے علاوہ بھی کسی چیز کا ٹیسٹ کیا جائے تو وہ بھی کورونا ازیٹو ہی آ رہا ہے جس وجہ سے کورونا ٹیسٹ کی اہلیت پر سوال اٹھا دیے گئے ہیں۔آسٹریا کے ایک قانون دان نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایااور انہیں ہیلتھ ڈکٹیٹر شپ نافذ کرنے کا الزام بھی دیا۔

اس نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوئے سب کے سامنے کوکاکولا کا کورونا ٹیسٹ کیاتو وہ پازیٹو آ گیا جس پر ایوان میں بیٹھے سبھی افراد ششدر رہ گئے۔ میکائیل شینڈلز جو کہ آسٹریا کی نیشنل کونسل کے ممبر ہیں اور فریڈم پارٹی کے ترجمان ہیں نے اپنی حکومت کی طرف سے کورونا کے حوالے سے کیے جانے والے ٹیسٹ اور ایس او پیز کے ساتھ ساتھ علاج کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

اسی تنقید کے دوران میکائیل نے کوکا کولا کا ایک گلاس لیااور اپنے کولیگز کے سامنے اس کا ٹیسٹ کیا جس کا رزلٹ چند ہی منٹوں میں سب کے سامنے تھااور سبھی کے لیے حیران کن بھی تھا کیونکہ کوکا کولا کو بھی کورونا ہو چکا ہوا تھا۔انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ صرف اور صرف فارماسیوٹیکل کمپنیز کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔

انہوںنے حکومت پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈکٹیٹرشپ نہیں تو اور کیا ہے کہ آپ نے عام شخص سے آزادی اظہار رائے کا حق چھین لیا،اسے کرفیو میں ڈال دیااور آزاد شخص کی آزادی چھین کر اسے قید میں ڈال دیا۔کورونا وائرس سے بچاﺅ کے لیے اپنائی جانے والی بڑے پیمانے پر سختیوں نے سب کو معاشی طور پر دیوالیہ کر دیا ،لوگ بیروزگار ہو گئے اور سماجی بحران پیدا ہو گیااور سب سے بڑھ کر بچوں سے ان کی تعلیم چھین لی گئی۔
میکائیل نے اپنی پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگوں کو تو سوچنے پر مجبور کر دیا تاہم کچھ فرض ہمارا بھی ہے کہ کورونا سے بچاﺅ کے لیے حفاظتی اقدامات تو ضروری ہیں لیکن اس دوران خود کو معاشی حوالے سے دیوالیہ ہونے سے کیسے بچانا ہے اور بچوں کی تعلیم کا کیسے بندوبست کرنا ہے اس کے لیے ہمیں ہاتھوں پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھنا بلکہ کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں