61

کے ڈی اے: 80 کروڑ کے ٹھیکوں میں مزید گھپلوں کا انکشاف

کراچی: ادارہ ترقیات کراچی کے سابق ڈی جی بدر جمیل میندھرو اور سیکریٹری بلدیات روشن شیخ کی مبینہ ملی بھگت سے 80 کروڑ لاگت کے ٹھکانے لگائے گئے 10 ٹھیکوں کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آگئے۔من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کے لیے حیران کن طور پر کے ایم سی کے انجینئر ظہیر عباس کو کے ڈی اے کا ایکسیئن بناکر ورک آرڈر جاری کرایا گیا، ڈمی اشتہارات دے کر فائلوں کا پیٹ بھرا گیا جبکہ حیران کن طور پر ٹینڈر ایوارڈ کرنے کے لیے کے جانے والے معاہدے پر خود سابق ڈی جی بدر جمیل میندھرو نے دستخط کیے
کراچی: ادارہ ترقیات کراچی کے سابق ڈی جی بدر جمیل میندھرو اور سیکریٹری بلدیات روشن شیخ کی مبینہ ملی بھگت سے 80 کروڑ لاگت کے ٹھکانے لگائے گئے 10 ٹھیکوں کے حوالے سے مزید انکشافات سامنے آگئے۔

من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کے لیے حیران کن طور پر کے ایم سی کے انجینئر ظہیر عباس کو کے ڈی اے کا ایکسیئن بنا کر ورک آرڈر جاری کرایا گیا، ڈمی اشتہارات دے کر فائلوں کا پیٹ بھرا گیا جبکہ حیران کن طور پر ٹینڈر ایوارڈ کرنے کے لیے کے جانے والے معاہدے پر خود سابق ڈی جی بدر جمیل میندھرو نے دستخط کیے۔بدعنوانیوں کے انکشاف پر کراچی کی2 بڑی کنٹریکٹرز ایسوسی ایشنز نے ڈی جی نیب،ڈی جی ایف آئی اے سمیت ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل،چیف جسٹس سپریم کورٹ سمیت چیف سیکریٹری سندھ کو خطوط ارسال اور عدالت عالیہ سے باقاعدی رجوع کا اعلان کردیا، باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی اے ڈی پی فنڈز کے80 کروڑ لاگت کے10 ترقیاتی منصوبوں کو چور دروازے سے ٹھکانے لگانے کے لیے قانون کی دھجیاں اڑادی گئیں۔

سیکریٹری بلدیات کے دفتر سے ایک لیٹر جاری ہوا جس میں 10 ترقیاتی کاموں کے ٹینڈر کرنے کے لیے کے ایم سی کے افسرانجینئر ظہیر عباس کو کے ڈی اے کا ایکسیئن بناکر ٹھیکوں کی بندر بانٹ کرائی گئی، سیکریٹری بلدیات نے لیٹر میں 4 افسران کو ٹینڈر کے معاملات دیکھنے کی ہدایت کی جس میں سرفہرست کے ایم سی کے ایکسیئن ظہیر عباس کا نام درج ہے جبکہ ظہیر عباس کا کے ڈی اے سے کوئی تعلق ہی نہیں اس کے باوجود فائلوں کا پیٹ بھرنے کے لیے کے ایم سی کے افسر ظہیر عباس کو کے ڈی اے کا ایکسیئن ظاہر کرکے نہ صرف خفیہ اور بوگس ٹینڈر کرادیے گئے بلکہ ٹھیکیدار کے ساتھ کنٹریکٹ سے قبل ہونے والے معاہدے پر بھی سابق ڈی جی بدر جمیل میندھرو نے دستخط کیے ہیں۔

ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ معاہدے ڈی جی نہیں بلکہ محکمہ انجئینئرنگ کے افسر نے کرنے ہوتے ہیں لیکن مذکورہ این آئی ٹی کے معاہدے پر سابق ڈی جی کے ڈی اے بدر جمیل میندھرو نے دستخط کرکے بدعنوانیوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے،ذرائع کے مطابق 80 کروڑ لاگت کے مذکورہ ٹھیکوں کے لیے سیپرا میں بھی این آئی ٹی نہیں بھیجی گئی۔

کے ڈی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے کو سیپرا کی اپنی آئی ڈی ملی ہوئی ہے اس سے مذکورہ این آئی ٹی اپ لوڈ نہیں کی گئی ہے مبینہ چور دروازے سے کروڑوں کے ٹھیکے ہڑپ کرنے والی مافیا نے موجودہ ڈی جی کے ڈی اے ڈاکٹر سیف الرحمن پر دباؤ ڈالنا شروع کردیا ہے اس سلسلے میں کنٹریکٹرز ایسوسی ایشنز کے ذمے داروں کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے میں جعلسازی اور بوگس ٹینڈرنگ کا ریکارڈ توڑ دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں