علامہ سعد رضوی 21

گستاخی رسول کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، تحریک لبیک کے نئے سربراہ کا پہلا بیان

لاہور: علامہ سعد رضوی کو تحریک لبیک پاکستان کا نیا امیر مقرر کر دیا گیا ۔جماعت کے نئے امیر نے اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیا ہے۔علامہ سعد رضوی ، خادم حسین رضوی کے صاحبزداے ہیں۔تحریک لبیک کے نئے امیر کا اعلان مینار پاکستان گراؤنڈ کے اجتماع میں کیا گیا۔حافظ سعد رضوی اس سے قبل ڈپٹی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر تھے۔
بطور تحریک لبیک کے سربراہ ان کا پہلا بیان سامنے آیا ہے۔حافظ سعد رضوی کا کہنا ہے کہ گستاخی رسول کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ والد محترم علامہ خادم حسین رضوی کی نصیحت پر عمل کریں گے اور مرحوم کا مشن جاری رکھیں گے۔ ۔ واضح رہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ 22 جون 1966 کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔
جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ خادم حسین رضوی ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے ہیں۔ خادم حسین رضوی نے گزشتہ کچھ سالوں کے دوران پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا تھا۔
مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں ناموس رسالت کے معاملے پر کیے جانے والے شدید احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو ملکی سطح پر پذیرائی ملی تھی، جبکہ عام انتخابات 2018 میں ٹی ایل پی ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی۔ گزشتہ ہفتے ان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی جانب سے رخ کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ مذاکرات کے بعد خادم حسین رضوی نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسلام آباد میں دھرنے کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی اور پھر لاہور واپس پہنچنے کے بعد وہ انتقال کر گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں