wheat 55

گندم کے بحران نے قومی خزانے کو 105 ارب روپے کا نقصان پہنچایا

اسلام آباد : گندم کے بحران نے قومی خزانے کو 105 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وزارت برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی نے تجویز پیش کی ہے کہ گندم کے بحران کے نتیجے میں قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کی رقم کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے سبسڈیز کی صورت میں ادا کیا جائے گا۔
اس حوالے سے اجلاس کے بعد وزارت خزانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی ، جس نے پیر کے روز صرف گندم کی طلب اور رسد سے متعلق ایک نکاتی ایجنڈے پر اجلاس طلب کیا تھا، نے سبسڈیز کے اعداد و شمار کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم ذیلی کمیٹی کی تشکیل محض رسماً کی گئی ہے کیونکہ اعداد و شمار کو پہلے ہی فوڈ اتھارٹی اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے ریونیو ڈاکٹر وقار مسعود خان کی جانب سے طے کیے جا چکے ہیں۔
وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ گندم کے معاملے پر اقتصادی رابطہ کمیٹی کے آٹھ نومبر 2020ء کو ہونے والے اجلاس میں رابطہ کمیٹی کی تجاویز کی روشنی میں یہ طے کیا گیا تھا کہ ایس اے پی ایم کی رہنمائی میں وزارت خزانہ ، نیشنل فوڈ سکیورٹی اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت کے بعد درآمد شدہ اور مقامی گندم پر سبسڈی کی کُل مالیت طے کرنے سے متعلق ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔
2018ء میں اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے 5.5 ملین میٹرک ٹن گندم اور اس کی پراڈکٹس کی درآمد کی اجازت دی تھی جس نے نہ صرف گندم کا بحران پیدا ہوا بلکہ اس کی قیمت میں بھی 75 فیصد اضافہ ہوا۔ اب نہ صرف حکومت مقامی مارکیٹ سے گندم کو مہنگے داموں خرید رہی ہے بلکہ 2.2 ملین میٹرک ٹن گندم درآمد بھی کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی حکومت نے گندم کی فی من امدادی قیمت میں200 روپے اضافہ کیا تھا،۔ جس کے بعد گندم کی نئی امدادی قیمت 1600 فی من مقرر کی گئی تھی۔ اس سے قبل گندم کی پرانی امدادی قیمت 1400 روپے فی من تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں