food 28

ہر صبح کا آغاز ناشتے سے کیجئے

جدید گھرانوں کی احمقانہ بڑی غلطی ناشتا نہ کرنا ہے،جس کی وجہ صبح کی دیر خیزی بھی ہے۔ ہمارے ملک میں جہاں ناشتے میں صرف توس اور تیز چائے پینے کا رواج ہے،اگر کسی کو بے نام سے شکایات ہو رہی ہیں،جس کا سبب واضح نہ ہو اور طبی معائنے پر کسی خرابی کا پتا بھی نہ چلے تو پھر ان افراد کی غذائی عادات کے متعلق سراغ رسانی کی جائے اور مختلف اوقات میں ان کی شکر خون کی سطح معلوم کی جائے۔
اب یہ بات بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں سستی،الکسی،تھکن،بد حواسی،مردم بیزاری، چڑچڑاپن،نڈھالی،کمزوری،مخبوط الحواسی اور ژولیدی فکری کا سرا غذائی عادتوں سے ملا ہوا ہے۔ ایک لحاظ سے ہماری غلط غذا کو آتش گیر مادے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

جو لوگ ناشتا نہیں کرتے،وہ متعدد قومی مسائل ،نجی معاملات،سیاسی و اقتصادی گتھیاں سلجھانے میں مکاری کا اظہار کر سکتے ہیں۔

چنانچہ اچھے ناشتے کی اہمیت دفتروں،کارخانوں،اداروں،گاڑی چلانے والوں،پیدل چلنے والوں اور اسکولوں و کالجوں کے طلبا و طالبات میں نہایت زیادہ ہے۔ اس بات کا امکان ہے کہ بہ ظاہر تنک مزاج،چڑچڑے،آشفتہ ذہن، افسردہ اور فسادی افراد میں شکر خون معمول سے کم ہو۔ دماغ کی توانائی کے لئے مناسب شکر خون نہایت ضروری ہے،جس کی کمی سے غشی کے دورے بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایک خوش حال خاندان کی عمر رسیدہ خاتون شام کے وقت شدید نقاہت میں مبتلا ہو گئیں۔ پسینے چھوٹ گئے اور دل دھڑکنے لگا۔ان کے لواحقین کو بجا طور پر یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ کہیں انھیں حملہ قلب تو نہیں ہو گیا۔ تفصیلی معائنے اور تخطیط قلب(ای۔سی۔جی)درست پائے گئے ۔ مزید استفسار پر مکمل رود اد سننے سے یہ علم ہوا کہ یہ خاتون اپنے عظیم الشان لب ساحل سمندر مکان میں تنہا رہتی ہے۔
زیادہ تر بچے بیرون ملک ہیں۔ برابر والے مکان میں ایک بیٹا اور بہو قیام پذیر ہیں،جو گاہے گاہے جھانک لیتے ہیں،ورنہ صرف ایک دیہاتی پیش خدمت اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ حال میں اس کی بیٹی امریکا سے آئی تھی۔ اس کے واپس جانے کے غم میں یہ خاتون سخت افسردہ ہو گئی۔ کھانا پینا ترک کر دیا اور نتیجے میں شکر خون کم ہو گئی،جس نے اسے ان حالوں تک پہنچا دیا۔
شکر کے چند چمچے پانی میں گھول کر پینے سے اس کا فوری مگر عارضی مداوا ہو گیا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اکثر لوگوں میں کمزوری،نڈھالی،تھکن،دل کی دھڑکن،سر کا درد،چلنے میں ٹانگوں کا جواب دے جانا اور بعض مبہم و بے نام شکایتیں،جن کا بادی النظر میں کوئی سبب ظاہر نہیں ہوتا، شکر خون میں کمی کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔ گو انھیں اور ان کے متعلقین کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ وہ حملہ قلب کی گرفت میں ہیں،جس کا اظہار درج ذیل واقعات سے ہوتا ہے کہ ان افراد کو یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں،حالانکہ ایسا نہیں تھا۔

ایک شخص شکار پر جاتے وقت اپنا ناشتے دان گھر بھول گیا اور تمام دن بھوکا پیاسا شکار کھیلتا رہا۔ دوسرا شخص اپنے موٹروں کے کارخانے میں بغیر ناشتا کیے چلا گیا،جہاں وہ دوپہر کا کھانا کھائے بغیر سخت مشقت میں مصروف رہا۔ تیسرا شخص پہاڑوں میں تعطیلات گزار رہا تھا،جہاں اس نے ناشتا کرنے سے قبل پہاڑ کی چوٹی تک چڑھنے کی کوشش کی۔ صبح بھی وہ چہل قدمی کرتا رہا تھا اور بعد میں تمام دن کچھ کھائے پیے بغیر ورزش میں مشغول رہا تھا۔
چوتھے شخص نے وزن کم کرنے کے لئے اپنی غذا کو انتہائی کم کر لیا تھا۔ اسے کمزوری کی شکایت علی الصباح اور رات کی پچھلی ساعتوں میں ہوتی تھی،جب شکر خون انتہائی کم ہو سکتی ہے۔ ایک بوڑھی عورت کو یہ شکایت تھی کہ جب بھی وہ باہر جاتی ہے اور تھوڑا سا بھی چلنا پڑتا ہے تو اسے غش آجاتا ہے۔ اس کا مسئلہ یہ تھا کہ تنہا رہنے کی وجہ سے وہ کھانا پکانے کے جھنجھٹ میں پڑنا نہیں چاہتی تھی، نہ اس میں ان کاموں کے لئے سکت تھی۔
اس کی غذا زیادہ تر میٹھے بسکٹوں پر مشتمل تھی۔
مندرجہ بالا افراد کے تفصیلی معائنے پر کسی خرابی کا پتا نہیں چل سکا تھا،مگر یہ خود اپنی تکالیف کی وجہ سے حد درجہ خوف زدہ تھے کہ وہ اس مخمصے میں سے نہیں نکل سکتے تھے ،اس لئے کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں۔ ان کی بیویاں ان کی اس طرح نگہداشت کر رہی تھی،جیسے وقت سے پہلے پیدا ہونے والے بچوں کی دیکھ بھال ان کی پریشان مائیں کرتی ہیں اور گھر کے تمام افراد کی توجہ کا مرکز ان کے دل کی کیفیت ہو گئی تھی۔
ایک طالبہ نفسیاتی وجوہ کے باعث کھانے سے خوف زدہ تھی۔ اس کی شکر خون اکثر و بیشتر کم ہو جاتی تھی اور جب بھی وہ گاڑی چلاتی تھی تو حادثات ضرور کرتی تھی۔ ایک واقعہ بلکہ حادثہ ایک اچھے خاصے تن وتوش والے شخص کا ہے،جو صرف کافی کی پیالی پی کر دفتر جاتا تھا۔ دوپہر ہوتے ہی اس پر غشی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔ اس کی لیڈی ڈاکٹر اہلیہ بھی غذائیت کی کمی کی ماری ہوئی تھی۔
وہ کچھ تو افسردگی اور کچھ کام کی مصروفیت کے سبب سے مناسب کھانا نہیں کھا پاتی تھی اور صرف اس وقت کچھ کھا لیتی تھی،جب اسے اختلاج ہوتا تھا اور پسینے چھوٹنے لگتے تھے۔ اس میں اپنے میاں پر توجہ دینے کے لئے ہمت و امنگ بھی نہ تھی،یعنی ایں خانہ تمام تاریک است (اس گھر میں سب اندھیرا ہے)۔
یہ صرف قصے نہیں،بلکہ سچے واقعات ہیں جن میں غور کرنے والوں کے لئے ایک جہان معافی پوشیدہ ہے۔
اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی حالت اور بھی ناشگفتہ بہ ہوتی ہے۔ رات کو دیر تک دورنما(ٹی وی)دیکھنے کی وجہ سے نیند پوری نہ ہونے کی کسل مندی ،دیر سے اٹھنے کی وجہ سے حوائج ضروری کے لئے وقت کی کمی،دیر ہو جانے کی فکر اور اسکول پہنچنے کی جلدی میں ناشتا کرنے کے لئے وقت نہ ہونا اور اگر رات گئے تک کھا کر زیادہ پیٹ بھر لیا گیا ہے ،جیسا کہ اس زمانے میں معمول بن گیا ہے تو ناشتا کرنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
چنانچہ اکثر بچے اچھی طرح ناشتا کرکے اسکول نہیں جاتے۔ زیادہ تر بغیر کچھ کھائے پیے اسکول کی راہ لیتے ہیں۔
بعض تو صرف دودھ کی ایک پیالی پر گزارا کرتے ہیں اور کچھ مکھن توس کھا لیتے ہیں۔ ان بچوں میں چڑچڑاپن،بے چینی،کند ذہنی،کردار میں کجی،پڑھنے میں بد دلی اور تھکن عام ہیں۔ وہ خوابیدہ،یعنی سوئے سوئے سے لگتے ہیں اور کوئی بڑا کام اچھی طرح انجام نہیں دے سکتے۔
انھیں گھر سے جو جیب خرچ ملتا ہے،وہ اسکول کے گرد و پیش کھڑے ٹھیلوں سے مٹھائی اور چاٹ کی خرید پر خرچ کر دیتے ہیں ،مگر مستقل غذائی قلت میں مبتلا رہتے ہیں،کیونکہ اس طرح ایک اچھے ناشتے کی تلافی نہیں ہو سکتی،بلکہ آئندہ کے لئے خرابی صحت کی ابتدا ہوتی ہے۔ بچوں میں بوسیدگی دنداں کی جو فراوانی ہے،اس کی خاص وجہ زیادہ شکر اور شکر سے بنی ہوئی چیزیں کھانا ہے۔
امریکا جیسے پڑھے لکھے اور خوش حال ملک میں بھی نصف بچے اچھی طرح ناشتا نہیں کرتے۔ لڑکیوں کی عادتیں اس معاملے میں زیادہ خراب ہیں۔ یہی حال خواتین کا ہے، خصوصاً جو کام کی غرض سے باہر جاتی ہیں۔ دراصل اکثر افرادکا ناشتا ادھورا اور مناسب لحمیات (پروٹینز)کے بغیر صرف چائے توس پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ لوگ اپنا کام اچھی طرح نہیں کر سکتے اور بہت جلد تھک جاتے ہیں۔ نہ صرف دوپہر تک وہ سست و کمزور رہتے ہیں،بلکہ دوپہر کا کھانا کھانے کے باوجود بھی ناشگفتہ،تھکے تھکے اور نڈھال نظر آتے ہیں

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں