IMRAN KHAN 44

ہمارامعاشرہ پیسے والوں کو عزت دیتا ہے چاہے وہ منشیات فروش ہو.عمران خان جس کو اللہ نے منع کیا ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپ کے معاشرے میں نقصان نہ پہنچائے. وزیراعظم کا اے این ایف ہیڈکواٹرزکے دورے کے موقع پر خطاب

ہمارامعاشرہ پیسے والوں کو عزت دیتا ہے چاہے وہ منشیات فروش ہو.عمران خان
جس کو اللہ نے منع کیا ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپ کے معاشرے میں نقصان نہ پہنچائے. وزیراعظم کا اے این ایف ہیڈکواٹرزکے دورے کے موقع پر خطاب

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہم نے ان لوگوں کو معاشرے میں عزت دی جو ناجائز طریقوں اور ڈرگز سے پیسہ بناتے تھے اے این ایف ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منشیات کو پہلے ہمارے ملک میں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، وہ سوچتے تھے کہ ہمارے ملک کا تو نقصان نہیں ہو رہا لیکن اللہ کا قانون ہے کہ جب بھی آپ اس چیز کی اپنے معاشرے میں اجازت دیتے ہیں جس کو اللہ نے منع کیا ہے، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آپ کے معاشرے میں نقصان نہ پہنچائے.
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے منشیات سے پیسہ بھی بنایا، معاشرہ انہیں برا نہیں سمجھتا تھا، سب کو معلوم ہوتا تھا کہ اس شخص نے ڈرگز سے بہت پیسہ بنایا ہے لیکن کیونکہ اس نے پیسہ بنایا تھا لہٰذا وہ معاشرے کے لیے قابل قبول تھا عمران خان نے کہا کہ یہ ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہوئی کہ ہم نے ان لوگوں کو معاشرے میں عزت دی جو ناجائز طریقوں اور ڈرگز سے پیسہ بناتے تھے، اس کا معاشرے کو نقصان ہونا تھا.
انہوں نے کہا کہ ڈرگز سے آنے والے پیسے نے پاکستان کو بھی نقصان پہنچایا، وہ پیسہ غلط کاموں میں استعمال ہوتا تھا، کرپشن بڑھاتا تھا، سیاستدانوں کی غلط سیاسی مہمات کی پشت پناہی میں استعمال ہوتا تھا، ایسے پیسے سے کئی لوگ انتخابات بھی جیتے اور وہ ایسے لوگوں کو تحفظ بھی فراہم کرتے تھے انہوں نے کہا کہ آج ہماری یہ صورتحال ہے کہ پاکستان میں 70لاکھ لوگ منشیات کے عادی بن چکے ہیں، نیوزی لینڈ کی آبادی اس سے آدھی ہے، سنگاپور کی اتنی آبادی نہیں ہے، یعنی ملکوں ی اتنی آبادی نہیں ہے جتنے ہمارے ہاں منشیات کے عادی افراد ہو گئے ہیں.
وزیر اعظم نے کہا کہ ایک گھر میں منشیات کا عادی شخص آ جاتا ہے تو وہ سارے گھر کو تباہ کر دیتا ہے، ایک باپ منشیات کا عادی ہے تو اپنی بیوی اور بچوں کی نزدگی تباہ کر دیتا ہے، اگر ایک بیٹا منشیات کا عادی ہو جائے تو وہ اپنے ماں باپ اور پورے گھر کی زندگی تباہ کر دیتا ہے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں منشیات فروشی کے خلاف کام کرنا ہو گا اس سے قبل منشیات کے خاتمے سے متعلق اقدامات پر توجہ نہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ 80 کی دہائی میں جس نے منشیات سے پیسہ بنایا اس کو غلط سمجھا ہی نہیں گیا اور منشیات سے پیسہ بنانے والوں نے معاشرے اور ملک کو نقصان پہنچایا وزیر اعظم نے کہا کہ منشیات سے پیسہ بنانے والوں نے پیسہ رشوت، انتخابی مہم اور مجرموں کو پناہ دینے میں استعمال کیا معاشرے میں منشیات ناسور ہے اور اس کا نقصان گھر سے لے کر ملک تک جاتا ہے.
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منشیات خاموش قاتل ہے اور یہ کرپشن، ذہنی کیفیت اور اصول کی تباہی کا موجب ہے منشیات تعلیمی اداروں میں بھی پھیل چکی ہے جو افسوسناک بات ہے انہوں نے کہا کہ منشیات کے خاتمے کے لیے ملک بھر میں مہم چلائی جائے گی.

اپنا تبصرہ بھیجیں