38

ہینڈ سینی ٹائزر کی وجہ سے بچوں کی بینائی ختم ہو نے لگی کیمیکل اور الکوحل ملے سینی ٹائزر بچوں کی آنکھوں کے لیے نقصان دہ قرار،رپورٹ

ہینڈ سینی ٹائزر کی وجہ سے بچوں کی بینائی ختم ہو نے لگی
کیمیکل اور الکوحل ملے سینی ٹائزر بچوں کی آنکھوں کے لیے نقصان دہ قرار،رپورٹ

ایک مصیبت سے نکلتے ہیں تو دوسری میں پھنس جاتے ہیں۔کورونا سے بچنے کے لیے ہینڈ سینی ٹائزرا ور اب جب ہنڈ سینی ٹائزر نقصان پہنچانے لگا تو اب کیا کریں۔بس اللہ ہی ہے جو ہمیں کورونا وائرس جیسی مہلک بیماری سے نجات کا راستہ عطا فرمائے اور ہم ہر قسم کی آزمائش سے بچ بچا کر اس موذی وبا کے دور سے نکل جائیں۔
ایک سال سے زائد کا عرصہ بیت چلا کہ کورونا وائرس جانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔اب تک کروڑوں افراد اس موذی بیماری کا شکار ہو چکے جن میں سے لاکھوں کی موت بھی واقع ہو چکی ہے۔تاہم ابھی بھی یہ جانے کا نام نہیں لے رہا۔گزشتہ سال کے آغاز میں جب کورونا وبا دنیامیں پھیلی تب ماسک کے استعمال کے ساتھ سینی ٹائزر کا استعمال بھی لازمی قرار دیا گیاتھا۔
مگر بعدازاں سینی ٹائزر کو ضروری ایٹم کی لسٹ سے نکال دیا گیا تھا کہ یہ جراثیم کش ہے۔تاہم گزشتہ برس سینی ٹائزر کا استعمال بہت زیادہ ہوا۔یہ اپریل 2020کی بات ہے کہ جب بچوں کی آنکھوں کے امراض کے کیسز تواتر سے آنے لگے جس پر تحقیق ہونے لگی۔تحقیق میں انکشاف ہوا کہ بچوں نے شرارت کے طور پر ایک دوسرے کی آنکھوں میں سینی ٹائزر ڈال دیا جس وجہ سے وہ نابینا ہو گئے۔
جبکہ سینی ٹائزر کا ہاتھ پر استعمال کرنے کے بعد جن بچوں نے ہاتھوں کو زیادہ بار آنکھوں سے مسلا ان کی آنکھوں میں بھی انفیکشن ہو گیاچونکہ سینی ٹائزر میں الکوحل ہوتا ہے اور کچھ سینی ٹائزر میں کیمیکل استعمال کیا جاتا ہے اس لیے وہ آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے اس لیے سینی ٹائزر کے استعمال سے بچوں کی آنکھوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔لہٰذا کورونا وائرس سے بچاؤکے لیے بچوں کو سینی ٹائزر کے استعمال کی بجائے ان کے ہاتھ دھلوانے کی طرف زیادہ توجہ دیں تاکہ الکوحل اور کیمیکل والے سینی ٹائزرکے استعمال آنکھوں کے امراض سے بچا جا سکے کیونکہ بچوں کی یہ عادت ختم نہیں کروائی جا سکتی کہ وہ باربار آنکھوں میں ہاتھ نہ ڈالیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں