55

10 کروڑ سال قدیم ٹانگوں والے سانپ کی باقیات دریافت

بیونس آئرس: سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے ارجنٹائن کے صوبے ریونیگرو سے 10 کروڑ سال قدیم سانپوں کی خاصی مکمل باقیات دریافت کی ہیں جن کے بارے میں ان کا کہنا ہے یہ سانپ ٹانگوں والے تھے۔

معدوم سانپوں کی اس قسم کو ’’ نجش ریونگرینا‘‘ (Najash rionegrina) کا سائنسی نام دیا گیا ہے جبکہ عرفِ عام میں اسے صرف ’’نجش‘‘ کہا جاتا ہے جو عبرانی زبان میں سانپ کے لیے استعمال ہونے والے لفظ ’’نحش/ نخش‘‘ کی ترمیم شدہ شکل ہے۔

اگرچہ ماضی میں بھی اس سانپ کی مختلف باقیات دریافت ہوچکی ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے کہ نجش سانپ کی مکمل اور سالم کھوپڑیوں کے ساتھ ان کے دیگر جسمانی حصوں کے رکازات (فوسلز) بھی ملے ہیں۔

واضح رہے کہ سائنسی حلقوں میں یہ خیال عام ہے کہ ماضی میں سانپ کی ٹانگیں ہوا کرتی تھیں لیکن کروڑوں سال کے عرصے میں وہ بتدریج ختم ہوگئیں جن کی باقیات آج بھی سانپوں کے جسموں میں بعض چھوٹی چھوٹی ہڈیوں کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ البتہ، یہ خیال صرف مفروضہ تھا جس کے حق میں ہمارے پاس رکازات (فوسلز) کی شکل میں کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔’’نجش‘‘ کے مکمل رکازات اور ان میں پچھلی ٹانگوں کی دریافت نے اس مفروضے کو تقویت پہنچائی ہے۔

اس سانپ کے بارے میں دیگر تفصیلات بیان کرتے ہوئے، ماہرین نے ریسرچ جرنل ’’سائنس‘‘ کے تازہ شمارے میں لکھا ہے کہ یہ سانپ مکمل طور پر خشکی کا جانور تھا اور اپنے جسم کو حرکت دینے کےلیے پچھلی ٹانگوں کا استعمال بھی کیا کرتا تھا۔ البتہ، اس کی جسامت بہت کم تھی اور غالباً زندہ حالت میں یہ زیادہ سے زیادہ صرف ایک فٹ جتنا لمبا رہا ہوگا۔

جش سانپ کے رکازات میں پچھلی ٹانگوں کی دریافت سے کم از کم اتنا ضرور ثابت ہوگیا ہے کہ کروڑوں سال پہلے کے سانپوں میں ارتقائی عمل کے باعث، اگلی ٹانگیں پہلے غائب ہوئیں جن کے بعد رفتہ رفتہ پچھلی ٹانگیں بھی سکڑتے سمٹتے ہوئے ختم ہوگئیں جن کی باقیات کی شکل میں آج صرف چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہی رہ گئی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں