آلودہ اور شوروالے شہر میں تین سالہ رہائش بھی دل کو متاثرکرسکتی ہے

کوپن ہیگن: ایک بہت بڑے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ آلودہ اور شوروالے ایک شہر میں صرف تین سال رہنے سے بھی دل کے دورے بلکہ ہارٹ فیل کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔
اس کے علاوہ کئی تحقیقات سے معلوم ہوچکا ہے کہ فضائی آلودگی سے ڈیمنشیا، مردانہ کمزوری، سانس کے امراض، توجہ اور ارتکاز میں کمی، بے اولادی اور دیگر امراض بھی بڑھنے لگتے ہیں یا ان سے متاثرہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
آلودہ اور شوروالے شہر میں تین سالہ رہائش بھی دل کو متاثرکرسکتی ہے

کوپن ہیگن: ایک بہت بڑے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ آلودہ اور شوروالے ایک شہر میں صرف تین سال رہنے سے بھی دل کے دورے بلکہ ہارٹ فیل کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔

اس کے علاوہ کئی تحقیقات سے معلوم ہوچکا ہے کہ فضائی آلودگی سے ڈیمنشیا، مردانہ کمزوری، سانس کے امراض، توجہ اور ارتکاز میں کمی، بے اولادی اور دیگر امراض بھی بڑھنے لگتے ہیں یا ان سے متاثرہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اب ڈنمارک کی تحقیق سے آلودہ اور شور بھرے شہروں اور امراضِ قلب کے درمیان اہم تعلق دریافت ہوا ہے۔ بالخصوص شہروں میں رہنے والی 22 ہزار خواتین کو مسلسل دو عشروں تک نوٹ کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ شور سے بھی وہ متاثر ہوتی ہیں اور اس طرح ان میں ہارٹ فیل کا خطرہ 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

دوسری جانب آلودہ فضا اور زہریلے ذرات اور امراض کے درمیان تعلق کو بھی مدِ نظر رکھا گیا۔ ان میں موجود پی ایم 2.5 اور دیگر مہلک ذرات خون میں شامل ہوکر دل، دماغ، پھیپھڑوں اور دیگر نظام تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ڈھائی مائیکرون کے آلودہ ذرات بزرگوں، بچوں اور حاملہ ماؤں کو متاثرکرسکتے ہیں۔

کاروں سے خارج ہونے والی دوسری اہم گیس نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ ہے جو سانس کی نالی کو متاثرکرتی ہے۔ دمے اور سانس کے مریضوں میں یہ گیس مرض کو مزید شدید کردیتی ہیں اور الرجی کو بھی بڑھاتی ہیں۔
ہارٹ فیل ہونے کی کیفیت میں دل ٹھیک سے خون پمپ نہیں کرسکتا اور جسم میں خون کی گردش متاثرہونے سے سانس پھولنے، تھکن اور کمزوری کے حملے ہوتے ہیں، یہاں تک کہ مریض اپنے روزمرہ کام بھی نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آلودہ ہوا سے شریانیں تنگ اور سخت ہوتی جاتی ہیں جبکہ دماغ بھی متاثر ہوتا ہے۔

ڈنمارک کی طویل تحقیق کوپن ہیگن یونیورسٹی نے کی ہے جس کی روداد جرنل آف امریکن ہارٹ ڈیزیز نے شائع کی ہے۔ اس میں ہزاروں خواتین کو بیس سالہ مطالعے میں شامل کیا گیا تھا۔ 1990 کے عشرے سے شروع ہونے والی تحقیق 2014 میں اختتام پذیر ہوئی جس میں مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی اور شور کا ڈیٹا لیا گیا۔ پھر ان دونوں کیفیات کی بلند مقدار کا قلبی امراض سے تعلق نوٹ کیا گیا۔
معلوم ہوا ہے کہ اگر پی ایم 2.5 کی مقدار فی مکعب میٹر پانچ مائیکروگرام تک بڑھ جائے تو اس سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ 17 فیصد تک بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار فی مکعب میٹر میں آٹھ اعشاریہ چھ مائیکروگرام پر پہنچ جائے تو ہارٹ فیل کا خدشہ مزید 10 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
اب اگر کسی علاقے میں 24 گھںٹے تک شور کی اوسط مقدار 9 ڈیسی بیل پر پہنچ جائے تو اس سے دل کے ناکام ہونے کا خطرہ 12 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اس طرح نائٹروجن آکسائیڈ، ڈھائی پی ایم اور شور جیسے تینوں عوامل بڑھنے سے مجموعی طور پر دل کے دورے کا خطرہ 40 فیصد سے بھی بڑھ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں