پالک کھانے سے آنتوں کے سرطان میں کمی ممکن

لندن: آنتوں کا سرطان تیزی سے پھیل رہا ہے اور امریکہ میں چوتھا عام کینسر اور موت والے کینسر میں تو دوسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے۔ تاہم پالک کھانے سے ان کا خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔

اس سے قبل آنتوں کے سرطان اور ہرے پتے والے سبزیوں کے باہمی تعلق پر بہت غور ہوچکا ہے۔ بعض افراد کے مطابق سبزیوں کا باقاعدہ استعمال آنتوں کے سرطان کا خطرہ کم کرتے ہوئے اسے نصف کرسکتا ہے کیونکہ اس میں ریشہ (فائبر) اور دیگر اجزا موجود ہوتے ہیں۔
اب گٹ مائیکروبس نامی جرنل میں شائع ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پالک، جین ، آنتوں کی صحت اور کینسر کےدرمیان ایک تعلق پایا جاتا ہے۔ اس کے لیے ماہرین نے ایک موروثی کیفیت کا جائزہ لیا جسے ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت والدین سے بچوں تک آتی ہے اور نوجوانوں میں غیرسرطانی رسولیوں کی وجہ بنتی ہے جنہیں آنتوں کے ابھار یا پولِپس کہا جاتا ہے۔
اس مرض کے شکار افراد کی آنتوں میں بار بار گومڑیاں بنتی رہتی ہیں جنہیں سرجری سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ اس طرح چھوٹی آنتے کے ابتدائی حصے ڈیوڈینم میں انہیں روکنے کے لیے ایک تھراپی کی جاتی ہے جو ایک زہریلا طریقہ علاج بھی ہے۔

اس ضمن میں جسے ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار جانوروں پر پالک کو آزمایا گیا۔ انہیں برف میں جمی پالک جانوروں کو 26 ہفتے تک کھلائی گئی تو آنتوں میں رسولیاں بننے کے عمل میں غیرمعمولی کمی دیکھنے میں آئی جو بڑی اور چھوٹی آنت میں موجود تھے۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ پالک سے آنتوں کے بیکٹیریا کے تنوع (ڈائیورسٹی) میں اضافہ ہوا یعنی مددگار خردنامیوں کی تعداد بڑھی اور پھر ان کے جینیاتی اظہار (ایکسپریشن) میں بھی تبدیلی ہوئی جس سے کینسر کو روکنے میں مدد ملی۔ اسی طرح پالک کھانے سے جانوروں میں اندرونی سوزش (انفلیمیشن) بھی کم ہوئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ پالک کھانے سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوتا ہے جو ’ فیمیلیئل ایڈینومیٹس پولی پوسِس‘ کے شکار نہیں۔ پالک کھانے سے آنتوں میں مفید بیکٹیریا بڑھتے ہیں جو سرطان کو روکتے ہیں اور ہرخاص وعام پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 10 سے 15 فیصد افراد میں آنتوں کا سرطان موروثی ہوتا ہے۔ مضر کیمیکل اور سرطان والے ماحول میں کئی عشرے تک رہنے سے ان کے جین بدل جاتے ہیں اور سرطان کی جانب بڑھتے ہیں۔ اس طرح پہلے غیرسرطانی رسولیوں بنتی ہیں اور اس کے بعد سرطان پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے امریکن کینسر سوسائٹی نے 45 سال سے اوپر ہرفرد کے لیے آنتوں کا ٹیسٹ تجویز کیا ہے جو سرطان کی شناخت کرسکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جن افراد کو جینیاتی طور پر آنتوں کے سرطان کا خطرہ ہوتا ہے ان میں بھی پالک بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں