ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت پر فنکاروں کا اظہار تعزیت

کراچی: پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ’محسن پاکستان‘ ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت پر پاکستانی فنکاروں نے اظہارِ تعزیت کیا ہے۔
ملک کو ایٹمی قوت اور اس کا دفاع ناقابلِ تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان آج 85 سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کے انتقال پر جہاں پوری قوم افسردہ ہے وہیں فنکار بھی رنجیدہ ہیں۔
معروف اداکار عدنان صدیقی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ آج ہم ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی بدولت ایک ایٹمی طاقت ہیں، اللہ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔


اداکارہ صبا قمر نے محسن پاکستان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی پاکستان کے لیے خدمات کا شکریہ ادا کیا۔



گلوکار علی ظفر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان محسن پاکستان تھے اور قوم ان کی خدمات کے لیے ہمیشہ مقروض رہے گی۔


اداکار عمران عباس نے لکھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہمیں ایٹمی طاقت بنانے اور اپنی لازوال خدمات پیش کرنے پر ہم اپنے ہیرو کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔


اداکار احسن خان نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات نے ہمارا سر فخر سے بلند کیا اور ہمیں مضبوط بنایا، ہم ہمیشہ ان کے احسان مند رہیں گے۔


پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتہائی اہم کردار تھا۔ مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔

ڈاکٹرعبد القدیر خان کو اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کردیا گیا ہے۔ جسد خاکی کی تدفین سے قبل گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا اور مسلح افواج و پولیس کے دستوں نے سلامی پیش کی۔

محسن پاکستان کی خواہش کے مطابق ان کی نماز جنازہ فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے پڑھائی۔ نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر و چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی اور وفاقی وزرا سمیت سیاسی و عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں