ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا وفات سے قبل ’ایم ڈی کیٹ‘ کو چیلنج کرنے کا ارادہ تھا

اسلام آباد: اپنی وفات سے تقریباً 11 گھنٹے قبل جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ڈان کو بتایا تھا کہ وہ میڈیکل اور ڈینٹل کالج کے ناقص داخلہ ٹیسٹس کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔
ٹی وی ٹوڈےنیوز کے مطابق ان کے الفاظ تھے کہ ’میں ناقص ایم ڈی کیٹ (میڈیکل طلبا کے داخلہ ٹیسٹ) کے خلاف پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیٹشن دائر کرنے والا ہوں،کیوں کہ اس نے لاکھوں طالبعلموں کا مستقبل تباہ کردیا ہے‘۔

انہوں نے یہ بات پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے معاملے پر ہفتہ کی شام ڈان سے بات کرتے ہوئے کہی۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں عام آدمی اور خاص طور پر اس معاملے میں ان امیدواروں کو درپیش مسائل کی کتنی فکر تھی کہ جنہیں پی ایم سی نے ابتدائی نتائج نظر انداز کرنے کا کہا ہے۔

ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ حکومت نے ناقص میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) متعارف کروایا ہے جس ملک میں میڈیکل طلبا کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پی ایم سی نے اعلان کیا تھا کہ تقریباً ایک لاکھ 25ہزار یعنی 65فیصد امیدوار پاسنگ مارکس حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

اس نامہ نگار کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی فون کال شام 6 بج کر 28 پر موصول ہوئی جس میں معروف سائنسدان نے کہا کہ وہ میڈیکل کے طلبا کے مستقبل کے حوالے خاصے پریشان ہیں اس لیے انہوں نے اس معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اپنی صحت کے بارے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے نحیف آواز میں بتایا کہ وہ ہسپتال میں کووڈ کے علاج کے بعد واپس گھر آگئے ہیں لیکن ان کی طبیعت بہتر نہیں، انہوں نے کہا کہ ’میرے پورے جسم میں درد ہے‘۔

اب جب کہ ملک کو جوہری طاقت بنانے والے سائنسدان اس دنیا سے رخصت ہوگئے، یہ غیر واضح ہے کہ کیا ان کے اہلِ خانہ ان کی درخواست کی پیروی کریں گے یا نہیں۔

اس سے قبل ڈان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ جب وہ کووڈ 19 کے سبب ہسپتال میں زیر علاج تھے تو موجودہ حکمرانوں نے ان کی خیریت دریافت نہیں کی جس پر وہ ناخوش ہیں۔

حال ہی میں وزیراعلی سندھ کو لکھے گئے ایک خط میں انہوں نے وفاقی حکومت کے رویے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘بڑا اچھا احساس ہے کہ وزیراعظم، وزرائے اعلیِ پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میری موت کی خوش خبری کا انتظار کررہے ہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں