گوادر کو ترقی کیلیے رکاوٹوں کا سامنا، سرکاری رپورٹ میں انکشاف

اسلام آباد: ایک سرکاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گوادر اور اس کے فری زون کو ترقی کیلیے بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور سی پیک کا مرکزی حصہ تاحال وعدے کے مطابق صنعتی مرکز کی جھلک تک نہیں دکھا سکا۔

وفاقی کابینہ کی سی پیک کمیٹی کی ہدایت پر سرمایہ کاری بورڈ کی تیار کردہ رپورٹ میں چینی آپریٹروں کے ساتھ پورٹ مراعاتی معاہدے پر نظر ثانی کی سفارش کی گئی ہے جس کا مقصد گوادر کی ترقی میں بعض بڑی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے، گوادر کو سی پیک کا تاج بھی کہا جاتا ہے۔
سرمایہ کاری بورڈ کی جائزہ رپورٹ کے مطابق گوادر کی طویل عرصے سے سی پیک کے مرکز کے طور پر مارکیٹنگ کی جا رہی ہے ، گوادر تاحال متوقع صنعتی ترقی کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکا جو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے سی پیک خالد منصور نے کہا کہ ان کی پہلی ترجیح گوادر بندرگاہ اور فری زونز کے لیے جلد کاروباری اور مارکیٹنگ کا منصوبہ تیار کرنا، گہری سمندری بندرگاہ کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے گوادر کو قابل عمل اقدامات کے ساتھ آگے بڑھانا اور ملکی ضرورت کے مطابق مختلف شعبوں میں اہم چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے، درآمدی متبادل کے حصول اور برآمدی صنعتوں کو مشرقی چین سے گوادر منتقل کرنے کیلئے یہ بہت زیادہ ضروری ہے،انہوں نے مزید کہا کہ اس سے روزگار کے بھی مواقع پیدا ہونگے۔

خالد منصور کا کہنا تھا کہ وہ چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی اور چینی سفارت خانے کے ساتھ مل کر ان مقاصد پر کام کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں