جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد:اپوزیشن کے نمبرز پورے

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے اپوزیشن اور ناراض اراکین نے نمبرز پورے کر لیے۔

65 اراکین پر مشتمل بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل ہوگا اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوگئی ۔

ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے 40 اراکین کی حمایت کا دعویٰ کیا جارہاہے جبکہ وزیر اعلیٰ کو گھر بیجھنے کیلئے 33 اراکین کی ووٹ کی ضرورت ہوگئی ۔

ناراض اراکین کے چار لاپتہ اراکین اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچے اور ائیرپورٹ سے سیدھا اسپیکراسمبلی قدوس بزنجو کے گھر پہنچ گئے۔

پی پی پی کے رہنماء نواب ثناء اللہ زہری نے بھی وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف ووٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ وہ آج صبح اسپیکر بلوچستان اسمبلی کے گھر پہنچے اور جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں حصہ لینے کااعلان کیا۔

بلوچستان کی سیاست میں اس وقت گہما گہمی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن نے تاحال اسپیکر قدوس بزنجو کے گھر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آج متحدہ اپوزیشن اور نارض اراکین کی جانب سے ایک اجلاس طلب کیا گیا ہے جہاں تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔

دوسری طرف وزیر اعلیٰ جام کمال نے مستعفیٰ ہونے سے انکار کردیا ہے اور ٹویٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ نہیں دیا اور اس طرح کی جھوٹی خبریں نہ پھیلائی جائیں ۔جام کمال نے ناراض اراکین اور متحدہ اپوزیشن پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف سب مخالفین ایک ساتھ ہوگئے ہیں۔

کوئٹہ میں موجود چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور وزیر پرویز خٹک کی بھی اہم بیٹھکوں کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے ناراض اراکین اور وزیر اعلیٰ جام کمال سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور حمایتی اراکین تاحال اکثریت کا دعوے پر قائم ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی تبدیلی آئے گی یا نہیں فیصلہ کل ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں