ایلون مسک کی 2 فیصد دولت سے دنیا میں غربت کا خاتمہ ممکن

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ اور دنیا کی امیر ترین شخص تنہا ہی دنیا سے مفلسی اور بھوک کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی دولت کا 2 فیصد حصہ اس دنیا کو کئی مشکلات سےنجات دینے کے لیے کافی ہو گا، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر نے دنیا بھر میں امیر ترین افراد سے اپیل کی ہے کہ صرف ایک مرتبہ ایک ساتھ ہو کر دنیا کو بچا لیں۔

انہوں نے اس کے لیے خاص طور پر ایلون مسک اور ایمازون کے مالک جیف بیزوس کا نام لیا۔ جو اس وقت دنیا کی امیر ترین شخصیات ہیں۔

ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ 42 ملین لوگوں کے لیے 6 بلین ڈالر درکار ہیں ورنہ انہیں بچایا نہیں جا سکے گا۔

بلوم برگ کے اعداد وشمار کے مطابق اس وقت ایلون مسک کی دولت کی289 بلین ڈالرز سے تجاوز کر رہی ہے، اور ان کا 2 فیصد چندہ بھی دنیا بھر کے لیے کافی ہوگا۔

یاد رہے اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک جیف بیزوس کو پیچھے چھوڑ کر تاریخ کے سب سے امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔

تاہم ایلون مسک کا اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا بلکہ وہ اب یونیورسٹی بنانے کا سوچنے لگے ہیں۔

ٹوئٹ میں ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ نئی یونیورسٹی شروع کرنے کا سوچ رہا ہیں جس کا نام ٹیکساس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اینڈ سائنس رکھا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں