پیسے دیتا ہوں، بھوک ختم کریں: ایلون مسک کا عالمی ادارہ خوراک کو چیلنج

ٹیکساس: دنیا کے امیرترین شخص ایلون مسک نے عالمی ادارہ خوراک کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیسے وہ دیتے ہیں لیکن دنیا سے بھوک ختم کرنے کا طریقہ کار عالمی ادارہ خوراک بتائے۔

ایلون مسک نے عالمی ادارہ خوراک کو یہ چیلنج سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’ٹوئٹر‘ پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں عالمی ادارہ خوراک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دنیا بھر میں بھوک کا مسئلہ ختم کرنے کے لیے 6 ارب ڈالرز کی خطیر رقم درکار ہے۔

ایلون مسک کی 2 فیصد دولت سے دنیا میں غربت کا خاتمہ ممکن

دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے یہ بیان پڑھنے کے بعد کہا ہے کہ وہ عالمی ادارہ خوراک کو 6 ارب ڈالرز دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس رقم کے لیے ٹیسلا کمپنی میں اپنے 6 ارب ڈالرز کے شیئرز فوری طور پر فروخت کردیں گے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارہ خوراک یہ بتا دے کہ وہ بھوک کا مسئلہ کیسے حل کرے گا؟

ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 ارب ڈالر

ایلون مسک نے واضح کیا ہے کہ جو رقم وہ دیں گے اس کے حساب کی جانچ پڑتال آزادانہ طور پر کی جائے گی تاکہ عوام الناس کو مکمل طور پر آگاہی رہے کہ دیے جانے والے 6 ارب ڈالرز کہاں اور کیسے خرچ کیے گئے ہیں؟

اپنا تبصرہ بھیجیں