پنجاب میں ڈینگی کے کاری وار جاری، ادویات نایاب ہو گئیں

لاہور: صوبہ پنجاب میں ڈینگی کے کاری وار جاری ہیں جب کہ بخار کی ادویات بھی مارکیٹ سے غائب ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے شہریوں کی تکالیف میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ٹی وی ٹوڈے نیوز نے محکمہ صحت پنجاب کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں ڈینگی کے 456 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں لاہور کے 333 مریض شامل ہیں۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق ڈینگی بخار سے مزید 6 افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں سے پانچ کا تعلق لاہور اور ایک کا راولپنڈی سے ہے۔

پنجاب میں رواں سال کے دوران اب تک ڈینگی کے 19 ہزار 21 اور لاہور میں 14 ہزار 145 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ صوبے میں ڈینگی بخار سے 75 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتالوں میں مریضوں کا رش برقرار ہے جب کہ سروسز اسپتال کی ایمرجنسی میں ایک ایک بیڈ پر دو دو مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق مریضوں کو سخت بخار میں کئی کئی گھنٹے کھڑے ہو کر بھی اپنی باری کا انتظار کرنا پڑ رہا ہے جب کہ کئی مریضوں کو ویل چیئر پر بھی علاج کے لیے اپنی باری کا انتظار کرتے دیکھا جا رہا ہے۔

محکمہ صحت پنجاب نے دعویٰ کیا تھا کہ ڈینگی بخار میں استعمال ہونے والی دوا کی 3 کروڑ 24 لاکھ گولیاں مارکیٹ میں بھجوائی گئی ہیں لیکن میڈیا رپورٹس کے مطابق صورت حال یہ ہے کہ لاہور میں ادویہ دوا اب بھی نایاب ہے اور شہری سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے اس صورتحال پر کہا ہے کہ لاہور میں ڈینگی کا بڑا حملہ ہوا ہے لیکن حالت یہ ہے کہ شہر میں پینا ڈول اور پیرا سیٹامول تک نہیں مل رہی ہیں۔

سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور شہریوں کی صحت کے لیے بہتر اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے ادویات کی فراہمی بھی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں